واشنگٹن ڈی سی —
ڈیلاویئر یونیورسٹی میں توانائی اور ماحولیات کے پروفیسر، ڈاکٹر سلیم علی نے کہا ہے کہ گلاسکو کانفرنس کا منظور کردہ اعلامیہ اس لیے قابل اطمنان نہیں ہے کیونکہ 2015ء میں پیرس معاہدے میں ممالک نے جو عہد کیا تھا کہ ماحول کے درجہ حرارت کو ایک عشاریہ پانچ درجے سینٹی گریڈ سے نہیں بڑھنے دیا جائے گا، یہ عہد، ان کے بقول، ”پورا نہیں ہو سکا”۔
دوسرے، دس سال قبل کوپن ہیگن میں عہد کیا گیا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو 100 بلین ڈالر سالانہ دیا جائے گا، یہ وعدہ اب تک پورا نہیں ہوا، یہاں تک کہ اس اعلامیے میں اس بات کے عہد کی تجدید بھی نہیں ہو پائی۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر سلیم علی نے کہا کہ ایسا ہے کہ کانفرنس ہوئی اور کوئی نہ کوئی معاہدہ تو کرنا ہی تھا جو انہوں نے کر لیا، جس سے،بقول ان کے،خاطرخواہ نتائج کا حصول ممکن نظر نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیات کی تبدیلی ایسی چیز ہے جس میں وقت کا خیال رکھنا ہو گا،کیونکہ اگر زہریلی گیس کے اخراج پرکنٹرول نہ ہوا اور یہ بڑھتا گیا تو موسمیاتی تبدیلی ایسے مقام ہر پہنچ جائے گی جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہو گی۔
ڈاکٹر سلیم نے کہا کہ اس میں سب سے بڑا بڑا مسئلہ base load power کا ہے، جسے آپ متبادل توانائی کی فراہمی کا مسئلہ کہہ سکتے ہیں۔ چونکہ اس متبادل توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لئے بہت بڑے پیمانے پر ‘اسٹوریج کیپیسٹی’ یا گنجائش کی ضرورت ہوگی، جو ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگلے سال مصر میں کانفرنس ہو گی اور کہا جاتا ہے کہ اس میں مزید پیش رفت ہو گی۔ مگر اس وقت تو، بقول ان کے، صورت حال مزید تشویشناک ہو چکی ہوگی۔
انہوں نے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کے بارے میں کہا کہ ماحول کو آلودہ کرنے میں سب سے زیادہ انکا حصہ ہے اور یہ سب سے زیادہ چین اور بھارت میں ہیں اور زیادہ خرابی ان پلانٹس سے پیدا ہوتی ہے جن میں جدید ٹیکنالوجی استعمال نہیں ہوتی۔ ایسے بیشتر پلانٹس بھارت میں ہیں۔ تاہم، چین پھر بھی اس سلسلے میں کچھ جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہا جسے Carbon capture and storage کہا جاتا ہے، جس میں خارج ہوَنے والی کاربن کو زمیں میں دفن کر دیا جاتا ہے اور یوں یہ گیس فضا میں نہیں پہنچ پاتی۔ اس طریقہ کار سے بھی ماحولیات کے بعض ماہرین مطمئن نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی مرحلے پر اسکے زمین سے leak ہو جانے کا خطرہ موجود ہے۔
ڈاکٹر سلیم کا کہنا تھا کہ ایسے میں جبکہ یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ درجہ حرارت کو مطلوبہ سطح پر فوری طور سے لانا ممکن نہیں، بہتر حکمت عملی یہ ہو گی کہ اس کے اثرات سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے جائیں، کیونکہ اس کا سب سے زیادہ اثر سمندری ساحلوں پر آباد شہروں پر پڑے گا اور ماحولیات کے اثرات کے سبب سطح سمندر کی سطح بلند ہونے سے کراچی اور ممبئی جیسے دنیا بھر کے ساحلی شہروں کی غرقابی کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ان شہروں کو محفوظ بنانے کے لئے، انفرا اسٹرکچر بنائے جانے چاہئیں؛ اور کانفرنس میں بھی اس پر بات ہوئی ہے اور وہ بھی سمجھتے ہیں کہ اسوقت mitigation سے زیادہ adaption پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے بجائے اس کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لئے تیاری پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔
بھارت کے ماہر ماحولیات، اشیش کوٹ ہاری نے کانفرنس میں ہونے والے معاہدے کے حوالے سے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا مجموعی تاثر، ان کے الفاظ میں، ”مایوس کن نظر آتا ہے”۔
انھوں نے کہا کہ حتمی اعلامیے میں ہر چند کہ مثبت زبان کا استعمال کی گئی ہے، مگر مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے جو عزم نظر آنا چاہئیے تھا وہ، بقول ان کے، نظر نہیں آتا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنگلوں کی آگ، غیر معمولی سیلاب اور سطح سمندر میں اضافے کی صورت میں ماحولیات کی خرابی کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں اور کرہ ارض کا درجہ حرارت اگر ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سنٹی گریڈ پر نہ آس کا جسکے کوئی آثار اس وقت نظر نہیں آتے تو اثرات اور زیادہ شدید ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ بھارت اور چین کوئلے کے استعمال کو کم کرنا تو درکنار اس کے استعمال کو جاری رکھنا چاہتے ہیں، بلکہ اس میں اضافہ ہی کر رہے ہیں۔
پاکستان کے ایک ماہر ماحولیات، ڈاکٹر قمرالزماں چودھری نے گلاسگو کانفرنس کے بارے میں کہا کہ سمجھوتے کو اطمنان بخش تو نہیں کہا جا سکتا، لیکن کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ ”خاص طور سے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کے بارے میں جو اتفاق رائے ہوا وہ کسی حد تک حوصلہ افزا ہے۔ حالانکہ اس میں بھی phase out کی جگہphase down کرکے گنجائش نکال لی گئی ہے”۔
ڈاکٹر چودھری کا کہنا تھا کہ مقرر ہدف حاصل کر لئے جائیں گے جس کا انحصار زیادہ تر اس بات پر ہے کہ کوئلے اور گیس کے استعمال میں کس حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
