English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

غیر ملکی ماہرین کو سعودی شہریت دینے کا شاہی فرمان جاری

القمر

سعودی عرب نے ڈاکٹروں، علماء اور اساتذہ سمیت بہت سے غیر ملکی ماہرین کے ایک گروپ کو شہریت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح سعودی عرب دوسرا خلیجی ملک بن جائے گا، جس نے اس سال اپنے ملک کی شہریت کا دروازہ غیر معمولی مہارت رکھنے والے غیر ملکیوں کے لیے ایک سرکاری پروگرام کے تحت کھول دیا ہے۔

جمعرات کو جاری ہونے والے ایک شاہی فرمان میں دنیا بھر کے غیر معمولی صلاحیت کے حامل افراد اور ماہرین کو شہریت دینے کا اعلان کیا ہے، تاکہ وہ اپنے علم و ہنر سے ملک کی ترقی میں حصّہ لے سکیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی، ایس پی اے نے پچھلے ہفتے یہ خبر دیتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ فیصلہ ملک کے شاندار اصلاحی منصوبے کا ایک حصّہ ہے۔

سعودی عرب میں اب تک جو غیر ملکی کام کرتے ہیں انہیں ایک مخصوص مدت کے لیے قابل تجدید ویزہ دیا جاتا ہے، جو ان کی ملازمت تک جاری رہ سکتا ہے۔

شہریت کے اس پروگرام میں اسلامی علماء، طب، سائنس، ثقافت، کھیل اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا تاکہ ان کے لیے ایسے پر کشش حالات پیدا ہوں جہاں یہ مستقل طور پر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کو جلا دے سکیں گے۔ خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ ویژن 2030 کے اہداف کو حاصل کرنے کے سلسلے میں کیا جا رہا ہے۔

ویژن 2030 ایک ایسا منصوبہ ہے جس کا مقصد تیل سے انحصار کو کم کر کے ایسے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جن سے ملکی معشیت پروان چڑھے۔

پیر کے دن مقامی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ سب سے پہلے جس گروپ کو شہریت دی گئی ہے اس میں شاہ سلمان کے مذہبی رواداری کے تصوارات کی حمایت کرنے والے علماء، ماہرین معاشیات، ڈاکٹرز، انجینیرز، کیمیا دان اور ذرائع ابلاغ کے ماہرین شامل ہیں۔

شہریت کے اس نئے قانون کا مقصد سعودی عرب کو غیر ملکی ماہرین کا علاقائی مرکز بنانا ہے۔

اس سال جنوری میں متحدہ عرب امارات نے اسی طرح کی ایک اسکیم کا اعلان کیا تھا جس کے تحت سرمایہ کاروں، سائنس دانوں، ڈاکٹروں اور دیگر ماہرین اور ان کے خاندانوں کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس سے پیشتر حالیہ برسوں میں سرمایہ کاروں، طلباء اور پروفیشنلز کو طویل مدتی رہائشی ویزے دینے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔

(خبر کا مواد خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے لیا گیا ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے