ویب ڈیسک —
پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات سے متعلق متنازع ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔ بل کی منظوری سے آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ کاسٹ کرنے کا بھی اختیار مل گیا ہے۔
بل کی منظوری پر متحدہ اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا اور کئی اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج پارلیمنٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔
اُں کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال دنیا میں ترک کیا جا رہا ہے، لیکن پاکستان میں اسے ہمارے اُوپر مسلط کیا جا رہا ہے۔
شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی پر جانب داری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے ایوان کی کارروائی کو بلڈوز کرتے ہوئے ان بلز کی منظوری کی راہ ہموار کرائی۔
متحدہ اپوزیشن نے الیکشن ترمیمی بل سمیت دیگر بلز کو عدالت میں چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا۔
بدھ کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی اُمور بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات ترمیمی بل کی تحریک پیش کی جسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔
تحریک کے حق میں 221 جب کہ مخالفت میں 203 ووٹ آئے جس کے بعد اپوزشین کے شور شرابے کے باوجود شق وار بلز منظور کرا لیے گئے۔
اس سے قبل اسپیکر اسد قیصر کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔
اسپیکر اسد قیصر کی اجازت سے قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے حکومت اور حکومت کی جانب سے لائے جانے والے قوانین پر شدید تنقید کی۔
شہباز شریف نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کالے قوانین منظور کرانا چاہتی ہے۔ اگر آج آپ نے انہیں منظور ہونے دیا تو پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس کی ذمے داری حکومت اور اسپیکر پر ہو گی۔

اپوزیشن لیڈر نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اجلاس کو مؤخر کر دیں اور حکومت کی جانب سے لائے جانے والے قانونی بلوں پر مشاورت کریں۔
‘چاہتے ہیں آئندہ انتخابات میں دھاندلی کا دھبہ نہ لگے’
وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جس کے بعد کسی کو انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے کا موقع نہ ملے۔
اُن کا کہنا تھا ہم کالا قانون مسلط نہیں کرنا چاہتے بلکہ ماضی کی کالک صاف کرنا چاہتے ہیں اور اگر ہمارے پاس عددی اکثریت نہ ہوتی تو پارلیمنٹ کا اجلاس نہ بلاتے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) ‘ایول ڈیزائن’ کا راستہ روکنے کے لیے لائی جا رہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر حزبِ اختلاف چاہتی ہے کہ ووٹ کو چوری ہونے سے بچانا ہے تو مجوزہ بلز کی حمایت کرے۔
بلاول بھٹو زرداری کی تقریر سے قبل اسپیکر اسد قیصر اور پیپلزپارٹی کے رُکن اسمبلی عبدالقادر مندوخیل کے درمیان تلخی کلامی ہوئی جس پر اسپیکر نے اُنہیں تنبیہ کی کہ میں آپ کو ایوان سے باہر نکلوا دوں گا۔
اسپیکر کا کہنا تھا کہ میں بلاول بھٹو کو بات کرنے کا موقع دے رہا ہوں، لیکن پھر بھی آپ بدتمیزی کیوں کر رہے ہیں۔
‘الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف عدالت جائیں گے’
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر حکومت نے عددی اکثریت کی بنیاد پر متنازع بل منظور کرائے تو پیپلزپارٹی عدالت سے رُجوع کرے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی اصلاحات کا بل منظور ہوا تو پیپلزپارٹی اس کے تحت ہونے والے آئندہ انتخابات کے نتائج بھی تسلیم نہیں کرے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ حکومت بھارتی جاسوس کلبھوش جادھو کو ریلیف دینے کے لیے متنازع بل لا رہی ہے۔ اگر حکومت نے ریلیف دینا ہے تو پاکستان کے عوام کو دے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کو اس ایوان کا استعمال کر کے کلبھوشن کو ریلیف دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔
‘کھلاڑی ہر چیز کے لیے تیار ہوتا ہے’
پارلیمنٹ آمد کے موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑی جب میدان میں چلتا ہے تو ہر چیز کے لیے تیار ہوتا ہے۔ گراؤنڈ میں موجود کھلاڑی کہتا ہے کہ جو مخالف کرے گا، میں اس سے بہتر کروں گا۔
ایک صحافی نے وزیرِ اعظم سے سوال کیا کہ آپ اتنی ملاقاتیں کر رہے ہیں، کوئی پریشانی تو نہیں؟ اس پر عمران خان نے صحافی سے ہی سوال کیا کہ کون ملاقاتیں کر رہا ہے۔
وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کہتے ہیں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کا قانون پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ایجنڈے میں بھارت کے مبینہ جاسوس کلبھوشن جادھو کو اپیل کا حق دینے سے متعلق بین الاقوامی عدالتِ انصاف نظر ثانی بل، انسدادِ جنسی زیادتی تحقیقات اور ٹرائل کا بل بھی ایجنڈے میں شامل تھے۔
مردم شماری سے متعلق تحفظات پر مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت کا ریفرنس بھی ایجنڈے کا حصہ ہے جب کہ حیدر آباد انسٹی ٹیوٹ فار ٹیکنیکل اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے قیام، خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کی روک تھام سے متعلق کریمنل لاء ترمیمی بل اور بچوں کی جسمانی سزا کے تدارک کا بل بھی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔


حکومت نے گزشتہ ہفتے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے انتخابی اصلاحات کے بل کو منظور کرانے کا فیصلہ کیا تھا جس پر اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ نے اعلانیہ اعتراضات کا اظہار کیا تھا۔
اتحادی جماعتوں نے انتخابی اصلاحات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے متعلق بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
تحریک انصاف کی حکومت بلوں کی منظوری کے لیے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس چاہتی تھی لیکن اتحادیوں کے تحفظات سامنے آنے کے بعد حکومت نے اس اجلاس کو ملتوی کر دیا تھا۔
اتحادی جماعت (ق) لیگ بلوں کی حمایت پر خاموش
وزیرِ اعظم عمران خان سے اتحادیوں کی ملاقات کے بعد منگل کو ایم کیو ایم نے مشترکہ اجلاس میں شرکت اور حکومتی بلوں کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کیا۔
ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر امین الحق کہتے ہیں کہ پارٹی کی رابطہ کمیٹی نے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی پر حکومت کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم مسلم لیگ (ق) کی جانب سے حکومت کی حمایت سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کے بعض اراکین مشترکہ اجلاس میں شریک ہوں گے تاہم بعض اراکین نے پارٹی قیادت کو شرکت نہ کرنے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔
تحریک انصاف کی اتحادی حکومت کو پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں قلیل اکثریت حاصل ہے جب کہ ایوان بالا میں حزبِ اختلاف اکثریت رکھتی ہے۔
مشترکہ ایوان میں نمبر گیم
سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حکومت و حزب اختلاف کی عددی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو 442 کے مشترکہ ایوان میں قانون سازی کے لیے 222 ارکان کی حمایت یا ایوان میں موجود ارکان کی اکثریت درکار ہو گی۔
اس وقت قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کے اتحادیوں کے ساتھ 180 ووٹ ہیں اور اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے پاس 158 ووٹ ہیں جب کہ جماعتِ اسلامی کے چار اراکین علیحدہ حیثیت میں موجود ہیں۔
سینیٹ کے 100 ارکان پر مشتمل ایوان میں حزبِ اختلاف کو 52 جب کہ حکومت کو 48 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ حزبِ اختلاف کے ایک رکن اسحاق ڈار نے اب تک حلف نہیں لیا ہے۔
عددی اعتبار سے دیکھا جائے تو حکومت کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ 442 کے مشترکہ ایوان میں 228 ارکان کی اکثریت حاصل ہے۔
