سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور نائب صدر مریم نواز کے ٹرائل سے متعلق متنازع آڈیو کلپ کی تردید کردی۔
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آڈیو کلپ ’جعلی‘ ہے اور میں نے آڈیو کال میں موجود شخص سے کبھی بات نہیں کی۔
واضح رہے کہ چند ہفتوں میں سابق چیف جسٹس کی یہ دوسری تردید ہے۔
آڈیو کلپ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
آڈیو کلپ میں مبینہ طور پر سابق چیف جسٹس کو سنا جاسکتا ہے کہ ’مجھے اس کے بارے میں تھوڑا دوٹوک ہونے دو، بدقسمتی سے یہاں یہ ادارے ہیں جو حکم دیتے ہیں، اس کیس میں ہمیں میاں صاحب (نواز شریف) کو سزا دینی پڑے گی، (مجھے) کہا گیا ہے کہ ہمیں عمران صاحب (عمران خان) کو (اقتدار) میں لانا ہے‘۔
انہوں نے مبینہ طور پر مزید کہا کہ ’سزا تو دینی ہی پڑے گی‘۔
لائن کی دوسری طرف موجود آدمی کہتا ہے کہ ’نواز کی بیٹی مریم نواز سزا کی مستحق نہیں ہیں‘، تو مبینہ طور پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ان سے کہتے ہیں کہ ’آپ بالکل درست کہہ رہے ہیں‘۔
آڈیو کلپ میں مبینہ طور پر ثاقب نثار کو یہ کہتے سنا گیا کہ ’میں نے اپنے دوستوں سے بات کی کہ اس بارے میں کچھ کیا جائے لیکن وہ نہیں مانے، عدلیہ کی آزادی نہیں رہے گی، اس لیے رہنے دیں‘۔
آڈیوکلپ سے متعلق مذکورہ انکشاف فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ نے کیا، اس آڈیو کلپ کی جانچ امریکا کی ایک معروف فرم نے کی جو ملٹی میڈیا فرانزک میں مہارت رکھتی ہے۔
#FactFocus Exclusive :
Saqib Nisar, the Chief Justice of Pakistan, ordered to sentence Nawaz Sharif and Maryam Nawaz as "institutions” wanted to bring Imran Khan to power.
Fact Focus Youtube Video Linkhttps://t.co/AQZW3s5R3Z pic.twitter.com/oPFdTGt8S1— #FactFocus (@FactFocusFF) November 21, 2021
