مبینہ آڈیو ٹیپ کے معاملے پر اب یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مختلف تقاریر کو جوڑ کر بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ایک ویڈیو پوسٹ کرکے کہا ہے کہ لگتا ہے ججوں کیخلاف مہم کی تیاری ذرا جلدی میں کی گئی۔ اس مذموم مہم کے پیچھے سارے کردار سامنے ہیں۔ اُمید ہے اس معاملے میں عدالتیں نرم رویہ اختیار نہیں کریں گی اور اس توہین آمیز مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
خیال رہے کہ ثاقب نثار بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش اس آڈیو ٹیپ کو خود ساختہ اور جعلی قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں نے کبھی کسی سے اس طرح کی کوئی بات نہيں کی، نہ کسی نے ہدايات ديں، ايجنڈے کے تحت ایسی باتيں لائی جا رہی ہيں۔
سابق چيف جسٹس ثاقب نثار کی مبينہ آڈيو۔ کيا سچ کيا جھوٹ @SAMAATV لے آيا تہلکہ خيز ثبوت۔ کہيں کی اينٹ کہيں کا روڑا نکلا۔ آڈيو ليک کا بيشتر حصہ سابق چيف جسٹس کی دو مختلف تقارير کو کاٹ کر بنايا گيا ہے، سنیے اور سر دھنیے 👇 pic.twitter.com/l4gAP7ll6t
— Adeel Ahsan (@syedadeelahsan) November 22, 2021
اس سے قبل سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا ایک مبینہ آڈیو ٹیپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کی جگہ بنانے کیلئے نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو بھی سزا دینی ہوگی۔
جسٹس (ر) ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کسی نے ہدايات ديں نہ کسی کو پاس آن کيں، کسی خاص ايجنڈے کے تحت ایسی باتيں لائی جا رہی ہيں۔ میں اس معاملے ہر قانونی راستہ اختیار کرنے کا سوچ رہا ہوں۔
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ چند روز قبل گلگت بلتستان کے چیف جج جسٹس رانا شمیم نے بھی اپنے بیان حلفی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر سنگین الزامات لگائے تھے۔
