English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عدالت کا کورنگی نالے پر بنی عمارتوں کے خلاف ایکشن اور پارکس اور کھیل کے میدان بحال کرنے کا حکم 

سپریم کورٹ نے کے ڈی اے پارکس، کھیل کے میدانوں پر قبضے سے متعلق درخواست پر کورنگی نالے پر بنی عمارتوں کے خلاف ایکشن لینے اور کے ڈی اے کو تمام پارکس اور کھیل کے میدان بحال کرنے کا حکم دیدیا۔بدھ کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے کے ڈی اے پارکس، کھیل کے میدانوں پر قبضے سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ ڈی جی کے ڈی اے نے کہا کہ نیو کراچی پارک بحال کیا تو بچے خوش تھے، میں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر آیا ہوں، بچوں نے چیف جسٹس کے حق میں نعرے لگائے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کورنگی انڈسٹریل ایریا نالے پر بہت سی بلڈنگ بن رہی ہیں، یہ تو ساری بلڈنگز گرانی پڑیں گی، جائیں، ان سب غیر قانونی عمارتوں کو سیل کریں، کورنگی برج کے ساتھ عمارتوں کا کیا کریں گے؟ ڈی جی کے ڈی اے نے کہا کہ آپ حکم دیں نالے کے اطراف ساری عمارتیں گرا دیں گے، بڑے مشکل حالات میں کام کر رہا ہوں، کرتا رہوں گا، میں ڈرتا نہیں کسی سے، کام شروع کیا تو میرے خلاف انتقامی کارروائی شروع ہوگئی، میری اہلیہ 20گریڈ کی افسر ہیں اسے گھر بیٹھا دیا گیا، چیف جسٹس نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ کیا ہو رہا ہے ایڈووکیٹ جنرل صاحب، ڈی جی نے بتایا کہ میں نے عدالت سے رجوع کیا تو میرے خلاف کارروائی کی گئی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل، یہ تو بہت غلط بات ہے، چیف جسٹس نے ڈی جی کے ڈی اے سے استفسار کیا کہ نیو کراچی پارک کا کیا کیا؟ ڈی جی نے کہا نیو کراچی سیکٹر فائیو ایف میں چھ ایکڑ کا کھیل کا میدان تھا، یہ فٹ بال گرائونڈ تھا، بچے کرکٹ کھیل رہے تھے، آدھے سے زیادہ کچرا تھا پارک میں، صفائی کروا دی گئی، بحالی پر کام کر رہے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لائیں، تصاویر کہاں ہیں؟ ڈی جی نے کہا کہ ٹینڈر کر دیا ہے، باقی خرچہ بہت زیادہ ہے، آدھے سے زائد گٹر کے پانی سے گرائونڈ بھرا ہوا تھا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ ہمیں سبز باغ دیکھا رہے ہیں، ڈی جی نے کہا کہ گرائونڈ میں ہوٹل تھا جیسے ختم کردیا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے اس کے علاہ مزید کتنے کھیل کے میدانوں پر قبضے ہیں، ڈی جی نے کہا سرجانی مین کارروائی کی تو ہم پر دو مقدمات درج ہو گئے، کورنگی میں راشد لطیف کو کرکٹ کا میدان دیا، وہاں پر 25 دوکانیں کھول دی گئی، چیف جسٹس نے حکم دیا کریں آپ کارروائی اس پر، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جب سٹرک پر چلیں تو آنکھیں، کان کھول کر چلیں آپ، ڈی جی نے کہا شہر کا ماسٹر پلان ہونا چاہیے، چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ادارہ ہو جو پورے شہر کو پلان کرے، کورنگی برج کے ساتھ عمارتوں کا کیا کریں گے؟ ڈی جی نے کہا کہ آپ حکم دیں نالے کے اطراف ساری عمارتیں گرا دیں گے، بڑے مشکل حالات میں کام کر رہا ہوں، کرتا رہوں گا، چیف جسٹس نے کہا ایڈووکیٹ جنرل صاحب، کچھ کریں، ریونیو ڈیپارٹمنٹ تو پورا تباہ ہے، ڈی جی نے کہاکہ سرجانی میں میرے افسران کے خلاف مقدمات درج ہوئے، جسٹس قاضی محمد امین احمد نے ریمارکس دیئے ایڈووکیٹ جنرل صاحب، ان ایف آئی آرز کو دیکھ لیں، اگر عدالت نے ان ایف آئی آرز کو دیکھا تو سخت فیصلہ بھی کریں گے، چیف جسٹس نے کہاکہ ملیر کی بیس ایکٹر اراضی پرائیوٹ لوگوں کو کیسے دی، پانچ ہزار ایکٹر کی کون سی زمین ہے کراچی میں۔ عدالت نے ڈی جی کے ڈی اے کو جامع رپورٹس جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ کورنگی جام صادق علی برج سے متصل عمارتوں کے خلاف بڑا فیصلہ آگیا، عدالت نے کورنگی نالے پر بنی عمارتوں کے خلاف ایکشن کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کورنگی برج نالے پر بنی عمارتوں کے خلاف ایکشن لیں۔ عدالت نے کے ڈی اے کو تمام پارکس، کھیل کے میدان بحال کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے اوپن اسپیس اور دیگر زمینیوں کو بھی واگزار کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جن پارکوں پر قبضے ہیں، کے ڈی اے انہیں فوری ختم کرائے۔ عدالت نے تین ماہ میں نیو کراچی میدان مکمل بحال کرنے کا حکم دیدیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے