کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ نسلہ ٹاور گرانے کا عمل تو شروع کردیا گیا ہے لیکن بے دخل کیے جانے والے مکینوں کے لیے متبادل اور مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ نسلہ ٹاور اور تجوری ہائیٹس سمیت جو تعمیرات بھی گرائی جانی ہیں ان کے متاثرہ مکینوں کو عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق زرِ تلافی کی ادائیگی یقینی بنائی جائے اور ذمے داروں کو سزا دی جائے ، سندھ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ معاوضے اور متبادل فراہمی کا انتظام کرے کیونکہ عدالت نے ہی یہ ذمے داری سندھ حکومت کو دی ہے ۔ عدالت عظمیٰ ایک کمیٹی بنائے جو اس طرح کے تمام معاملات کو دیکھے اور متاثرین کو معاوضہ و متبادل اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی بھر میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق جماعت اسلامی کا روز اوّل سے یہ موقف رہا ہے کہ ہم نہ صرف متاثرین کے ساتھ ہیں بلکہ یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ان سب کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایاجائے اور سزادی جائے جن کی منظوری اور درپردہ پشت پناہی کے باعث یہ تعمیرات قائم ہوئیں ۔ خواہ ان کا تعلق کسی بھی پارٹی یا حکومت سے ہو ان کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ جب تک اس قسم کی تعمیرات میں مددگار بننے والوں اور ان کے ذمے داروں کو سزا نہیں دی جائے گی تب تک یہ سلسلہ ختم ہونا ناممکن ہے، اگر حکومت اور متعلقہ اداروں کے ذمے داران کو سزائیں نہ ملیں تو یہ عمل آئندہ بھی رہے گا اور لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہوتے رہیں گے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ نسلہ ٹاور کے مکینوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی اور جمع پونجی لگا کر فلیٹس خریدے تھے آج یہ سب عملاً سڑکوں پر آگئے ہیں اور ان کے لیے کہیں سے بھی کچھ نہیں کیا گیا ۔ متاثرین کو معاوضہ اور متبادل نہ ملا اور تعمیرات کے ذمے داران کے خلاف اگر کارروائی کرتے ہوئے ان کو سزائیں نہ دی گئیں تو یہ ادھورا انصاف ہوگا اس لیے انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا اور غیر قانونی تعمیرات کے مجرموں کو آزاد اور متاثرین کو بے یارو مددگار ہر گز نہ چھوڑا جائے ۔
