کراچی(کامرس رپورٹر) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد ٹیکسز میں اضافہ نہیں ہوگا‘ سبسڈی ختم کریںگے ‘ فرٹیلائزر پر 150ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی‘ لاکرز سیل کرنے کی افواہیں غلط ہیں ‘ پیٹرول پر سارے ٹیکسز ختم کر دیے‘ تیل کی قیمت میں کمی کافائدہ عوام کودیںگے‘ڈالر9 روپے تک نیچے آئے گا‘ ایف بی آر غیر ضروری نوٹسز جاری نہیں کرے گا‘ ہمارے دور حکومت میں غربت میں کمی اور دیہات میں خوشحالی آئی ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعے کی صبح پاکستان اسٹاک ایکسچینج کراچی میں روایتی گھنٹا بجانے کی تقریب سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میںکیا۔ اس موقع پر چیئرمین ایس ای سی پی عامر خان، پی ایس ایکس کے سی ای او فرخ ایچ خان، شمشاد اختر، احمد چنائے اور دیگر بھی موجود تھے۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے سے متعلق غلط فہمیاں جنم لے رہی تھیں‘ افواہیں تھیں کہ لاکرز سیل ہو جائیں گے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوگا‘ ہم نے آئی ایم ایف کو ٹیکسز بڑھانے سے انکار کیا ہے‘ آئی ایم ایف معاہدے کے حوالے سے غلط فہمیاں نہ پھیلائی جائیں۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کیپٹل مارکیٹ کی بہتری اور اسٹیٹ فنانسنگ کی بہتری ترجیح ہے‘ ایس ایم ایز سیکٹر کے فروغ کے لیے اقدامات کیے ہیں جس سے معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے‘ ایس ایم ایز سیکٹر کا پاکستانی جی ڈی پی میں اہم کردار ہے، جس سے ہماری معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت ہمارے پاس ڈیٹا اکھٹا ہوچکا ہے‘ حکومت کو امیر غریب کا پتا چل گیا ہے‘ ڈیٹا موجود ہے، ٹیکس کی شرح میں اضافہ اور نئے ٹیکس پیئرز کو سامنے لانا خوش آئند ہے‘ ہمیں اسٹاک مارکیٹ پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا‘ماضی کے مقابلے میں کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تعمیراتی سیکٹر کے ساتھ 40الائیڈانڈسٹریز وابستہ ہیں‘رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑا سرمایہ ہے جو مختلف شعبہ جات کو ایک ساتھ چلاتا ہے‘ پاور، پیٹرولیم، انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری مارکیٹ کو سپورٹ دے رہی ہے۔ شوکت ترین نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایف بی آر غیر ضروری نوٹسزاب جاری نہیں کرے گا‘ ہمیں لگتا ہے 10روپے انڈر ویلیو ہے‘ افواہوں کی وجہ سے ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے‘جب ڈالر کی قیمت بڑھی ہے تو ایک دم کم بھی ہوگی‘ فرٹیلائزر پر ہم 150ارب کی سبسڈی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 50 لاکھ کے قریب ایس ایم ایز ہیں اورصرف10 فیصد لوگوں کو بینک لون مل رہا ہے یہ بہت ناانصافی ہے‘ہم کوشش کر رہے ہیں کہ آسان طریقے سے انہیں لون اور رقم مل سکے‘ ورلڈ بینک کہتا ہے کہ ملک میں غربت کی شرح کم ہوئی ہے‘ گاؤں اوردیہات میں خوشحالی ہے‘ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں فروخت ہو رہی ہیں‘ہمیں مڈل کلاس کی انکم کے لیے کام کرنا ہے‘میں نے پیٹرول پر سارے ٹیکسز ختم کردیے ہیں۔
