English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی کے دو ہاتھیوں کا فوری علاج کرایا جائے، عالمی ویٹرنری ماہرین

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں ویٹرنری ڈاکٹروں کی ایک عالمی ٹیم کے سربراہ نے منگل کے روز اپیل کی ہے کہ دو ہاتھیوں کو طبی دیکھ بھال کی فوری ضرورت ہے۔

ڈاکٹر فرینک گوریٹز نے، جن کی ٹیم کو جانوروں کی دیکھ بھال کی ایک عالمی تنظیم ‘فور پاز’ نے چار ہاتھیوں کے معائنے کے لیے پاکستان بھیجا تھا، اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک ہاتھی کے سامنے کے دانت کو نکالنے کے لیے پیچیدہ نوعیت کی سرجری کی ضرورت ہے۔ اس دانت کو نقصان پہنچنے کے بعد اس میں انفکشن پھیل چکا ہے۔

‘فور پاز’ کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسرے ہاتھی کے کھانے کے دانتوں کے ساتھ مسائل ہیں اور اس کے ایک پاؤں کے ساتھ بھی ایک طبی مسئلہ ہے۔

گوریٹز کی تیار کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہاتھیوں کو لاحق بیماریاں بہت تکلیف دہ ہوتی ہیں اور ان کی وجہ سے ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

جانوروں کی دیکھ بھال کے عالمی ادارے 'فورپاز' کے ماہرین کی ایک ٹیم نے کراچی کے چار ہاتھیوں کا معائںہ کیا۔

جانوروں کی دیکھ بھال کے عالمی ادارے ‘فورپاز’ کے ماہرین کی ایک ٹیم نے کراچی کے چار ہاتھیوں کا معائںہ کیا۔

‘فور پاز’ نے کہا ہے کہ کراچی کی ایک عدالت نے حکم دیا تھا کہ جانوروں کی دیکھ بھال کے ماہرین کو کراچی کے چڑیا گھر اور کراچی سفاری پارک میں موجود چار ہاتھیوں کی صحت کے معائنے کے لیے ان تک رسائی دی جائے۔

گوریٹز نے عدالت کو بھیجی جانے والی اپنی حتمی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہاتھیوں کی عمومی صحت اچھی ہے۔ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دو ہاتھیوں کا علاج کب کیا جائے گا اور کون ان کا علاج کرے گا۔

‘فور پاز’ نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس ٹیم کی ترجیح چاروں ہاتھیوں کی فوری طبی دیکھ بھال کرنا ہے۔

اسلام آباد چڑیا گھر کا ہاتھی کاون کیوں روتا ہے؟





please wait



No media source currently available

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ہتھنی کو، جس کا نام نورجہان ہے، اسے سامنے کے ٹوٹے ہوئے دانت کے تکلیف دہ انفکشن سے نجات دلانے کے لیے ایک بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ تمام چاروں ہاتھیوں کو کراچی سفاری پارک میں اکھٹا رکھا جائے، انہیں مناسب خوراک اور دیکھ بھال فراہم کی جائے اور ان کے عملے کو موزوں تربیت دینے کی بھی ضرورت ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک ہاتھی جس کا نام ‘سونو’ ہے اور دس سال سے اس کے بارے میں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ وہ نر ہے، جب کہ حقیقتاً وہ مادہ ہے۔

جانوروں کے علاج معالجے کے ماہرین کا یہ دورہ اس واقعہ کے ایک سال کے بعد ہوا ہے جب اسلام آباد کے کاون نامی ہاتھی کو کمبوڈیا منتقل کیا گیا تھا اور اب وہ وہاں ہاتھیوں کی ایک پناہ گاہ میں رہ رہا ہے۔

کاون اسلام آباد کے چڑیا گھر میں 35 سال تک رہا۔ وہ 2012 میں چڑیا گھر میں موجود ہتھنی کے مرنے کے بعد اکیلا ہو گیا تھا اور اداس رہنے لگا تھا جس نے اسے کمزور کر دیا تھا۔ اس کی عادات کے پیش نظر اسے زیادہ تر زنجیروں میں باندھ کر رکھا جاتا تھا۔

(اس رپورٹ کا کچھ مواد ایسوسی ایٹڈ پریس سے حاصل کیا گیا ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے