رضا رومی نے کہا ہے کہ ہم غیر منتخب اداروں پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ لوکل گورنمنٹ سسٹم کو سبوتاژ کیا۔ ایسا کیوں ہے کہ سپریم کورٹ حکم دے تو پھر ہی الیکشن ہونگے یا کوئی نیا ڈکٹیٹر آ کر ہی ایسا کرے گا۔ سیاسی جماعتوں کو اس بارے میں سوچنا چاہیے۔
افغانستان میں سر اٹھاتے انسانی بحران پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اگر افغان لوگ مشکل میں ہیں تو ہمیں ہر قسم کی ان کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ کہنا کہ ہم یہاں مہاجرین کو آنے نہیں دینگے، غلط بات ہے، کوئی بھی اپنا ملک خوشی سے چھوڑ کر پناہ لینے نہیں آتا۔
مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے خطرہ ٹل نہیں جاتا۔ افغان طالبان کے کابل میں بیٹھنے سے پاکستان کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کم نہیں ہونگے۔ جو لوگ بھی طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ باتیں کر رہے تھے کہ افغانستان میں این ڈی ایس کا کردار، بلوچستان میں عسکریت پسندی اور ٹی ٹی پی کو انڈین فنڈنگ ختم ہو جائے گی تو ان کے سامنے بھی اب تمام حقائق کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سمیت جتنے بھی گروہ ہیں ان کی نظریاتی اساس ہمارے جمہوری نظام سے بالکل الٹ ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر بات کرتے ہوئے مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ یہ بات اب کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ عمران خان ہر اس ادارے کو نیست ونابود کرنا چاہتے ہیں جو کام کرنا چاہتا ہے۔
فوزیہ یزدانی کا کہان تھا کہ سیاسی جماعتیں جتنا مرضی شور مچا لیں، انہوں نے ہی لوکل گورنمنٹ کو ہمیشہ سبوتاژ کیا ہے لیکن مارشل لا کے ادوار میں انھیں ہمیشہ پرموٹ کیا جاتا رہا ہے۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر پاکستان کے لوکل باڈی سسٹم میں بے تحاشا مرتبہ ہوا ہے۔ تاہم یہ نظام کم از کم 10 سال بھی چل جائے تو لوگوں کو اس کی سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہے۔ مشرف کے دور میں 2001ء سے 2010ء جو آرڈیننس چلا تھا اس میں ایسا ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بھی جنگ ہوتی ہے تو اس کا خواتین اور بچوں پر زیادہ اثر پڑتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے وہ طالبان کا وکیل نہ بنے بلکہ وہاں پر انسانوں کی مدد کی جائے جو لوگ ابھی مشکل حالات میں ہیں، اگر وہ یہاں پناہ لینا چاہتے ہیں تو انہیں اجازت دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ملک کی عوام کو بھوک اور افلاس سے مارنا چاہتے ہیں یا ان کی بہبود کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو سوچنا پڑے گا کہ وہاں جنم لے رہا انسانی بحران زیادہ اہم ہے یا ریاست کا نام بدلنا زیادہ ضروری ہے۔
افتخار فردوس نے کہا کہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ٹی ٹی پی ہماری ذیلی تنظیم نہیں لیکن دوسری جانب وہ ان ہی کے بیانیہ کی توثیق کر رہے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی نظام قائم نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان صرف یہ نہیں چاہ رہے کہ انھیں تسلیم کیا جائے بلکہ وہ ”اسلامی ری پبلک آف افغانستان” کا نام تک تبدیل کرکے اسے ”اسلامی امارت افغانستان” رکھنے کے خواہش مند ہیں، اس لئے عالمی دنیا سے ان کے معاملات لٹکے ہوئے ہیں۔
