English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سندھ اسمبلی میں‌ ان پڑھ اپوزیشن کہاں‌ سے آئی؟

القمر

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ سندھ اسمبلی میں ان کا
واسطہ ایک ان پڑھ اپوزیشن سے پڑا ہے جسے آئین و قانون سمیت کسی چیز کی کوئی سمجھ ہی نہیں
وہ صرف شور شرابہ اور ہنگامہ کرنا جانتی ہے جو اس نے ترمیمی بلدیاتی قانون کی منظوری کے وقت
بھی کیا حالانکہ یہ بلدیاتی بل صوبے کے عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے۔
انہوں نے یہ بات ہفتہ کو سندھ اسمبلی میں بلدیاتی بل کی منظوری کے بعد ایوان میں خطاب کرتے ہوئے
کہی ۔وزیر اعلیٰ سندھ کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے ڈیسک بجاکر ان کے خطاب کا خیرمقدم کیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ بل دس دن میں صوبے میں نافذ العمل ہوجائےگا۔انہیں بہت دکھ ہے کہ آج یہاں

بل پر بلاوجہ احتجاج کیا گیا ،ایوان میں جس طرح لسانیت شروع کی گئی ہے وہ بھی افسوس ناک چیز ہے۔ کچھ لوگ صوبائی اسمبلی پر قبضے کی بات کررہے ہیں۔ ہمارے لئے یہ بات کرنا انتہائی نامناسب بات ہے ۔ سندھ اسمبلی میںپیپلزپارٹی کی اکثریت ہے جسے کس طرح قبضہ کہا جاسکتا ہے۔انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ کیا تم اسلام آباد سے آکر قبضہ کرنا چاہتے ہو؟ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں پاکستان کا حصہ سمجھیں،ہمیں کچھ اور سوچنے پر مجبور نہ کریں۔سندھ کے لئے سندھ کی اقلیت نہیں بلکہ اکثریت فیصلہ کریگی۔ تم لوگ اقلیت میں ہو اور آئندہ بھی اقلیت میں ہی رہوگے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جب سے قائم ہوئی ہے سندھ کے عوام اسے مسلسل منڈیٹ دیتے چلے آرہے ہیں اور اب تک ہر الیکشن میں اس نے سب سے زیادہ ووٹ لئے ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ نے ایم کیو ایم کا نام لئے بغیر کہا کہ لسانیت مت پھیلائیں ،لسانیت پھیلانے والا لندن بیٹھا ہے مگراسکی سوچ انکے اندر سے نہیں نکلی ہے ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے بنیں پاکستان سے محبت کریںسندھ سے محبت کریں جب تک محبت نہیں کرینگے سندھ والے مسترد کرتے رہینگے ۔بلدیاتی بل میں اعتراضات دور کئے گئے ہیں۔شہروں میں ٹاون سسٹم کو بحال کیا گیا ہے اینی پرسن پر اعتراض تھا نعمت اللہ خان اور نوید جمیل کیا تھے ؟گورنر کے کنڈکٹ کو دیکھیں پورے سندھ کے اسپتالوں کی مانیٹرنگ لوکل کونسل کو دیدی ہے انہوں نے بل پڑھا ہے نہیں باہر جاکر بھی کہیں گے کہ ہمیں بولنے نہیں دیا گیا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ گورنر کے اعتراض کے بعد جنرل پرنسپلز پر نہیں بولا جاتادو ممبران نے ترامیم ڈالیں مگر صوبے کی بدقسمتی ہے کہ ان پڑھ اپوزیشن آگئی ئے وفاق میں بھی ایک ان پڑھ جاہل حکومت آگئی ئے مہنگائی کا طوفان ہے گھروں کے چولہے بند کردئیے یہاں بھی سب بھوکے بیٹھے ہیں کیونکہ گھروں میں گیس نہیںتھی یہ اوپر جو سلیکٹڈ بیٹھا ہے وہ ہاتھ جوڑے اور ملک کی جان چھوڑ دے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے