
کوئٹہ/سرگودھا/کراچی (صباح نیوز +اسٹاف رپورٹر) بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پورٹ روڈ پر حق دو گوادر تحریک کا دھرنا29ویں روزمیں داخل ہوگیا۔تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن اتوار کو بھی دھرنے کے شرکا سے اظہار یکجہتی کے لیے آنے والے سیاسی اور سماجی رہنماں سے ملاقاتیں کرتے رہے اور انہیں حق دوتحریک کے مقاصد سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔گو ادر کو حق دو تحریک کے مطالبات میں بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالروں کے ذریعے ماہی گیری پر پابندی ایک اہم مطالبہ ہے۔تحریک کے دیگر مطالبات میں مچھلی کے غیرقانونی شکار کے خلاف کارروائی، ایران کی سرحد پر نقل و حمل کی مانیٹرنگ فرنٹیئر کور کے بجائے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرنے، کوسٹ گارڈ کی تحویل میں لوگوں کی گاڑیاں چھڑوانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے معاونت فراہم کرنے اور گوادر میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر شراب کی دکانوں کو تاحکم ثانی بند کرنے سے متعلق ہیں۔دوسری جانب امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر اتوار12دسمبر کو کراچی تا خیبریوم یکجہتی بلوچستان بھرپور طریقے سے منایا گیا۔ اس سلسلے میں کراچی ، حیدرآباد، بدین، میرپور خاص،ٹنڈوآدم، نواب شاہ، سکرنڈ، کوٹری، سانگھڑ، بدین، ٹھٹھہ، گولارچی، جیکب آباد سمیت متعدد مقامات پر پریس کلب پر احتجاجی مظاہرے کرکے بلوچستان کے مظلوم عوام سے بھرپوریکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ ریلی مظاہرے اور حق دو بلوچستان واک سے مرکزی صوبائی ضلعی ومقامی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھاکہ بلوچ عوام محب وطن ہیں انہیں دیوار سے لگاکر باغی بنانے کے بجائے ان کو اپنے حقوق دے کر بنیادی مسئلے حل کئے جائیں۔بلوچستان کے عوام کو بنیادی حق دینے اور گوادر تحریک کے مطالبات کی منظوری کے حق میں اور رہنماؤں کو ہراساں کرنے کے خلاف قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ادھر دورہ سرگودھا کے موقع پر نومنتخب امیر ضلع سرگودھا محمد اویس قاسم تلہ کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ گوادر کو حق دو تحریک کے مطالبات تسلیم کیے جائیں ،طاغوتی طاقتوں نے نیو ورلڈ آرڈ کے نام پر مسلم ممالک کو غلام بنالیا ہے، بیرونی ایجنڈہ پر چلنے والے حکمران ملک و قوم سے مخلص نہیں،، ہمیں اپنا فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر اقتدار میں آنے والے عمران خان نے ملک و قوم کا وقار رہن رکھ دیا، ملکی ادارے، پارلیمنٹ اور صاحب اقتدار طبقہ خود بھی آزاد نہیں، ان کا کہنا تھا کہ قوم کو سودی نظام کی ہتھکڑیوں میں جکڑ کر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا غلام بنا دیا گیا، ظلم کی انتہااسٹیٹ بینک کو بھی عمران خان نے آئی ایم ایف کے سپرد کردیا۔ملک میں انگریز، طاغوت اور استعمار کا نظام ہے، انصاف نہیں ملتا،جج ریٹائر ہو کر وعدہ معاف گواہ بن کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے اور رونے پر مجبور ہے۔سراج الحق نے کہا کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی 3نہیں ایک ہی جماعت ہیں جو ایک ہی ایجنڈہ پر چل رہی ہیں ۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ملک میں گالیوں، بدتمیزی اور عدم برداشت کا کلچر فروغ دے کر نسل نو کا اخلاق تباہ کردیا، قوم کو عمران خان کی تبدیلی کا مطلب سمجھ آگیا، صرف ایوان اقتدار میں تبدیلی آئی، ملک و قوم کو تباہ کر دیا گیا، عمران خان یاد رکھیں کہ صرف ہاتھ میں تسبیح گھمانے سے ملک کو ریاست مدینہ کی شکل نہیں دی جاسکتی اور ملک میں رائج طبقاتی و دجالی نظام کے خاتمے تک حقیقی تبدیلی کسی بھی صورت ممکن نہیں ہوسکتی۔سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی 22سال سے شرعی عدالت میں سودی نظام کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلزپارٹی اس کی مخالف ہیں، ماضی میں بھی اقتدار میں آنے والی جمہوری جماعتوں نے اسلامی نظام کی راہوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے غداری کی اور موجودہ حکومت بھی یہی کردار ادا کر رہی ہے۔دوسری جانب سکھر میں یکجہتی بلوچستان ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حساس و اہم علاقہ ہے،سی پیک کے ذریعے خطے کی تقدیر بدلنے کے دعوے کیے جارہے ہیں مگر سی پیک کے مرکز گوادر کے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، سی پیک کے ثمرات کا سب سے پہلا حق گوادر کے عوام کا ہے، گوادر کے عوام نے 28 دنوں سے اپنے حقوق کے لیے دھرنا دے کر ہمت و ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ ٹرالر مافیا سے نجات۔چیک پوسٹوں کے ذریعے لوگوں کی تذلیل بندکی جائے۔لوگوں کو روزگار ہنر اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ گوادر کا احتجاج ضرور رنگ لائے گا۔صوبائی امیر محمد حسین محنتی نے اپنے خطاب میں کہاکہ اس وقت بلوچستان سب سے زیادہ پسماندہ ہے،سی پیک کے مرکز گوادر کے عوام بھی پانی تعلیم اور روزگار کے حصول کے لیے پریشان و سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ اہلیان سندھ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ہیں۔ ریلی سے امیر ضلع سلطان لاشاری اور جنرل سیکرٹری عبدالحلیم تنیو نے بھی خطاب کیا۔
