لبنان کے مہاجر کیمپ میں حماس کے شہید کارکن کے جنازے پر فلسطین کی حکمران جماعت الفتح کارکنوں نے دھاوا بول دیا،فائرنگ کے نتیجے میں حماس کے مزید 3کارکن شہید جبکہ 6 کے قریب افراد زخمی ہوگئے. فلسطینی حریت پسند تحریک حماس نے حریف جماعت الفتح کو غزہ میں اپنے تین کارکنوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ تاہم الفتح نے حماس کے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔
لبنان کی فوج نے جنازے کے دوران فائرنگ کے سلسلے میں ایک فلسطینی نوجوان کو گرفتار بھی کیا ہے۔
فائرنگ کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب اتوار کے روز ہی فلسطینی مغربی کنارے کے انتخابات میں فتح اور حماس سے وابستہ امیدواروں کو ووٹ ڈالنے جا رہے تھے۔
قبل ازیں دو روز قبل لبنان کے فلسطینی مہاجر کیمپ میں ایک دھماکا ہوا تھا ، حماس ترجمان کے مطابق بجلی کے شارٹ سرکٹ سے آگ لگی تھی جو کیمپ میں موجود کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے آکسیجن سلنڈر تک پہنچنے سے دھماکے ہوے۔ حماس نے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ یہ دھماکا اسلحہ ڈپو میں ہوا ۔
حماس کا کہنا ہے کہ آگ لگنے سے املاک کو نقصان پہنچا لیکن اس کا اثر محدود تھا۔ دھماکے سے قریب کی دیواریں سیاہ ہو گئیں اور پاس کی ایک مسجد کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔
اسی مہاجر کیمپ میں گزشتہ روز حماس کارکن حمزہ شاہین کا جنازہ تھا جو ایک جہادی مشن میں شہید ہوگیا تھا
کیمپ کے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جنازے کا جلوس کیمپ کے قبرستان میں پہنچا اور وہاں اچانک ہجوم کی طرف فائرنگ کی گئی۔
واضح رہے کہ حماس نے 2007 میں الفتح کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غزہ پٹی کے علاقے کا کنٹرول خود ہی سنبھال لیا، جب کہ اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے پر الفتح کا کنٹرول باقی رہا۔ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کم کرنے اور امن قائم کرنے کی کوششوں کے باوجود آج تک دشمنی جاری ہے۔
حماس کے ایک عہدیدار رفعت المرا کا کہنا ہے کہ الفتح کے عسکریت پسندوں نے جنازے کے جلوس پر گولی چلائی جس میں چھ دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔ حماس نے اپنے ایک اور بیان میں کہا کہ ہم رملہ میں الفتح سے وابستہ فلسطین اتھارٹی کی قیادت اور لبنان میں ان کی سیکورٹی سروسز کو مکمل طور پر اس جرم کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
لیکن برج الشمالی کیمپ میں الفتح سے وابستہ سیکورٹی فورسز کے ایک اہلکار طلال العبید قاسم نے کہا کہ گولی چلانے والا شخص نہ تو الفتح تحریک کا رکن ہے اور نہ ہی سیکورٹی فورسز سے اس کا کوئی تعلق ہے۔
ادھر لبنانی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس جرم کے الزام میں جس شخص کو پکڑا گیا ہے اسے فلسطینی سیکورٹی فورسز نے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
لبنان اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے تحت اپنی حدود میں قائم ایسے 12 کیمپوں میں ایک لاکھ بانوے ہزار فلسطینی پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا ہے۔ تاہم لبنانی فوج ان کیمپوں میں داخل نہیں ہوتی اور اس کی سیکورٹی کی نگرانی فلسطینی دھڑوں کی مقامی پولیس کرتی ہے۔
The post لبنان، فلسطینی مہاجر کیمپ میں جنازے کے جلوس پر الفتح کی فائرنگ،حماس کے 3کارکن شہید first appeared on Daily Jasarat News.
