چار دن تک جاری رہنے والی بات چیت میں ناکامی کے بعد ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے حوالے سے جاری ویانا مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہوگیا ہے۔ اس ناکامی کے فورا بعد امریکہ اور یورپین یونین کے نمائندوں نے ایران کے خلاف مذمتی بیان جاری کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جس کے پیچھے ان رپورٹس کا ہاتھ کہ اسرائیل اسلامک ری پبلک کے خلاف فوجی حملے کے لیے پیش قدمی کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ امریکہ نے ایران پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تہران ویانا مذاکرات میں تعمیری تجاویزپیش کرنے میں ناکام رہاہے ۔وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی نے بریفنگ میں بتایا کہ نئی ایرانی انتظامیہ تعمیری تجاویز کے ساتھ ویانا نہیں آئی۔
انخابات کے بعد ایران نے نائب وزیر خارجہ علی باقری کانی کی سربراہی میں ان مذاکرات کے لیے ایک نئی ٹیم تشکیل دی تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ امریکی نمائندے ویانا میں موجود تھے تاہم انہیں نے اس بحث میں براہ راست حصہ نہیں لیا اور یوروپین یونین کے نمائندے نے جو ان مذاکرات کی سربراہ کر رہے تھے وہ امریکی ٹیم اور ایران کے مذاکرات کاروں کے مابین پیغام رسانی کا کام کررہے تھے۔
امریکی تنقید اور اسرائیل کی فوجی قوت کا مظاہرہ
تین دسمبر کو مذاکرات کا عمل روک دیا گیا تاکہ تمام نمائندے اپنی اپنی حکومتوں سے بات کرکے ایک ہفتہ بعد واپس آئیں جن میں ممکنہ طور پر ان کی حکومتوں کی جانب سے نئی ہدایات بھی شامل ہوں گی۔ اس موقع پر مغربی سفارتکاروں کی جانب سے الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوگیا کہ ایران اس بات چیت میں تعطل کا ذمہ دار ہے اور اس بات چیت کی آڑ میں اپنے ایٹمی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ ایران معاہدے میں واپسی کے لیے ضروری شرائط پوری نہیں کر رہا اس بات کے قطع نظر کہ بلنکن اس بات کو ذہن میں رکھتے کہ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا اعلان ایران نے نہیں بلکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا وہ ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اسی طرح چار دسمبر کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک ایک غیر معروف اہلکار نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں ایران پر پابندیوں کی بات کی۔ جس کے اہم نکات ذیل میں ہیں۔
1۔ ایران نے جان بوجھ کر مذاکرات میں تاخیر کی ہے تاکہ اپنے ایٹمی پروگرام میں تیزی لا سکے اور یہ صورت حال امریکہ کو ہرگز قبول نہیں ہے۔
2۔ ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے نئے مطالبات رکھے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران اس معاہدے میں واپسی کے لیے سنجیدہ نہیں ہے پس اس طرح ایران پابندیوں پر نرمی کو رد کر کے اپنے ہی لوگوں کونقصان پہنچا رہا ہے۔یاد رہے کہ ایران کے نئے مطالبات میں پانبدیوں کا خاتمہ شامل ہے۔
3۔ ایران کی یورینیم افزودگی فردو کے پلانٹ پر 20 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو کہ 60 فیصد تک جانے کا امکان ہے ۔ پس ایران امریکہ سے زیادہ چاہتا ہے اور اپنے حوالے سے کم دینا چاہتا ہے ۔ اس طرح مذاکرات بے نتیجہ رہیں گے کیونکہ دنیا جس کی پہلے تمام تر ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں اب اس کے خلاف ہوجائین گی۔
4۔ جب امریکہ ویانا مذاکرات میں آگے بڑھنا چاہتا ہے تاہم اگر ضرورت ہوئی تو وہ دیگر ہتھیار بھی استعمال کر سکتا ہے ۔
اس حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے پراسرائیل کو دو خدشات ہیں اول ان مذاکرات میں ایران کو بہت ساری رعایتیں دی جا سکتی ہیں اور دوسرا امریکہ ایک عبوری معاہدہ قبول کر کے ایران پر سے جزوی پابندیاں ختم کرکے اسے یورینیم کی افزودگی سے روک سکتا ہے۔ اسرائیل کو خوف ہے کہ ایران کے لیے پابندیوں میں جزوی ریلیف بھی اس کے لیے کافی ہو گا کیونکہ موجودہ معاشی زرائع ایران کے لیے کافی ہیں کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھا سکے۔ اس لیےان مذاکرات کے دوران اسرائیل اس طرح کی بدگمانیاں پھیلا رہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کو 90 فیصد تک بڑھا چکا ہے جو کہ ایٹمی ہتھیار کی تیاری کے لیے کافی ہے۔ ویانا مذاکرات میں موجود ایرانی ترجمان نے اسرائیلی رپورٹس کو ویانا مذاکرات کو خراب کرنے کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے اور مذاکرات کاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاسی بصیرت اور آزادی کا مظاہرہ کریں۔
ان مذاکرات کے دوران اور کی معطلی تک اسرائیلی رہنماوں کا رویہ انتہائی جارحانہ رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے بلنکن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی بلیک میلنگ کے خلاف مزاحمت کریں اور ویانا مذاکرات کو فوری طور پر ختم کردیں ۔ نفتالی بینیٹ نے مزید کہا کہ اسرائیل 2015 کےمعاہدے کو تسلیم کرنے والی غلطی نہیں دہرائے گا اور اگر یہ معاہدہو بھی جاتا ہے تب بھی اسرائیل نہ تو اس میں فریق بنے گا اور نہ ہی اس کا پابند ہوگا۔ ایک غیر روائتی پیش رفت میں موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے جو کچھ کر سکا کرےگا۔ اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوج کا آپشن میز پر موجود ہے۔ حالیہ رپورٹس کےمطابق اسرائیل سمارٹ بنکر بسٹر بم تیار کر رہا ہے تاکہ ایران کی نیوکلئیر سائٹس پر حملہ کر سکے۔
ایران کی نئی حکومت اسلامی انقلاب کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہے اور امریکہ پر بھروسہ نہیں رکھتی۔کسرا عربی نامی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر ابراہیم رئیسی اور اعلی عہدیداروں کی ٹیم جو اس وقت تشکیل دی گئی ہے وہ سیاسی نظام میں منظم تبدیلی کے لیے کوشاں ہےتاکہ ایرانی معاشرے کو مکمل اسلامائزیشن کی طرف لایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ بہتر انتظامی کارکردگی اورمعیشت کی بہتر مینجمنٹ کی جاسکے۔ نئی ایرانی ٹیم امریکہ کق بداعتمادی کی نظر سے دیکھتی ہے اور سمجھتی کہ اگر جے سی پی او اے دوبارہ بحال ہو بھی جائے تب بھی امریکہ پابندیوں میں نرمی نہیں کرے گا۔ ویانا میں ایرانی مذاکرات کار علی باقری کانی تہران کے حالیہ موقف کے روح رواں ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ایٹمی معاہدے کے سخت نقاد بھی ہیں۔ انہوں اس معاہدے کو ” بیمار بچے” سے تشبیہ دی تھی اور اس بات کا انکار کیا تھا کہ سپریم لیڈر سید آیت اللہ علی خامنہ ای اس معاہدے کے حامی ہیں۔
ایٹمی معاہدے کا مستقبل
ویانا میں معطل مذاکرات کی بحالی کےموقع پراس بات کی پیشن گوئی کرنا مشکل ہے کہ امریکہ اور ایران تازہ، قابل قبول ، نئے خیالات اور اپروچز کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ بعض تجزیہ نگاروں مثلا رابرٹ ہنٹر نے تجویز دی ہے کہ امریکہ کو 2018والی پوزیشن پر واپس آ کر اس معاہدے کق تسلیم کرکے اپنے سابقہ ایجنڈے کی تکمیل کرنی چاہیے تاہم پابندیوں کا معاملہ تاحال ناحل ہی رہے گا مگر امریکہ اس ڈیل سے متعلق پابندیاں اٹھا کر ایک بہتر آغاز کی طرف جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے دوسرا منصوبہ یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ ایک عبوری معاہدے کی طرف جائے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران پر سے کچھ پابندیوں کا خاتمہ کرکے اسےمعاہدے میں واپس لایا جائے۔ مگر اسرائیل اس کا سخت مخالف ہے اور امریکہ میں بھی شاید ہی عبوری معاہدے کو کوئی حمایت حاصل ہو کیونکہ جو بائیڈن کی سیاسی پوزیشن کمزور ہے۔ ایرانی معاملات پر عبور رکھنے والی ممتاز شخصیت ٹریٹا پارسی نے تجویز دی ہے کہ اس معاہدے میں آگے بڑھنے کے کمزور آثار کے باعث جے سی پی او اے کق ساقط کیا جاسکتا ہے یعنی نہ تواس کو ختم کیا جائے نہ آگے بڑھایا جائے تاوقتیکہ امریکہ میں کوئی بہتر صورتحال جنم لے۔ اس تجویز کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جنوب ایشیا میں تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال ، نئی مخالفتوں اور موجودہ خطرات کے پیش نظر نیوکلیر مسئلے کو ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایران افزودگی کی طرف جاتا ہے تو اسرائیل یقینی طور پر جنگ کے لیے امریکی حمایت کی کوشش کرے گا۔
ریجنل آرڈر
ایران یہ بات جان چکا ہے کہ اس معاہدے کا احیاء اس کے مفادات کے لیے ٹھیک نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ سے دھوکا کھانے کے بعد ایران مسلسل اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ امریکہ ضمانت دے کہ مستقبل میں کوئی بھی امریکہ صدر یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دسبردار نہیں ہوگا۔ جبکہ کمزور سیاسی پوزیشن کی وجہ سے جو بائیڈن اس طرح کی ضمانت دینے کی حالت میں نہیں ہیں حتٰی کہ بائیڈن تو اپنی انتظامیہ کی ضمانت دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔ ایسی کسی بھی ضمانت کی عدم موجودگی میں ایران کا معاہدے میں واپس آنا اس کے لیے بے معنی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ رئیسی انتظامیہ نے ایرانی مفادات کے لیے نئے اشارے دیے ہیں۔ وزیر خارجہ کی تقرری کے فوری بعد ایران کے نئے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہ نے کہا کہ وہ اپنے پڑوسیوں اور ایشیائی ممالک کے ساتھ متوازن، متحرک، اور سمارٹ خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھیں گے جس کی بنیاد دوطرفہ وقار پر ہوگی۔
دسمبر کے اوائل میں رئیسی حکومت نے معاشی روڈ میپ کا اعلان کیا تھا جس میں نئی سرمایہ کاری شامل تھی جس کا مقصد2023 تک 18 لاکھ نوکریاں پیدا کرنا، 40 لاکھ نئے گھروں کی تعمی اور 2025 تک خام تیل کی برآمد کو 70 بلیں ڈالر تک لے کر جانا ہے۔ امریکی پابندیوں سے پہنچنے والے نقصان کے باوجود ایران اپنے معاشی مستقبل کے بارے میں انتہائی پرامید ہے۔ چین ویانا مذاکرات میں ایران کی حمایت کررہا ہے ۔ اقوام متحدہ میں چینی سفیر وانگ قون نے کہا ہے ہ امریکہ اور برطانیہ اس بات پر کیوں بضد ہیں کہ ایران 7۔3 فیصد سے آگے یورینیم افزودہ نہیں کر سکتا جبکہ دوسری جانب ٹنوں کے حساب سے یورینیم آوکس کو فراہم کی جارہی ہے؟ انہوں نے امریکی طرز عمل کو دوغلا قرار دیا۔ اس سے قبل 30 نومبر کو چینی سفیر نے امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ ایران پر سے وہ تمام پابندیاں ہٹائی جائیں جو کہ ایٹمی معاہدے سے منطبق نہیں ہوتی ہیں۔ درحقیقت بائیڈن انتظامیہ کی کمزوری اس اس قابل نہیں بناتی تو کہ وہ ایران کو پہنچا ہوا نقصان واپس کر سکے اس لیے ایران اس بات سے بخوبی آگاہ ہے اور اب اسے معاہدے کی زیادہ پرواہ نہیں ہے۔
پیر، 13 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post ایران ایٹمی مذاکرات: کیا جنوبی ایشیا کو نئے تنازعے میں گھسیٹا جارہاہے؟ شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.
