
اسلام آباد (آن لائن)عدالت عظمیٰ نے ایکٹ 2010 ء کے ذریعے بحال ہونے والے سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کیخلاف دائر نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیاہے۔محفوظ شدہ فیصلہ(آج)جمعہ17دسمبر کو ساڑھے11بجے سنایا جائے گا۔جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں5رکنی لارجر بینچ نے ایکٹ2010 ء کے ذریعے بحال ہونے والے سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت اور دیگر کی جانب سے دائر نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد
جاوید خان نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ اپنی دی گئی تجاویز میں 2 وضاحتیں پیش کرنا چاہتا ہوں،جن ملازمین کو مس کنڈکٹ یا ڈیوٹی سے غیر حاضری پر نکالا گیا ان پر ہماری تجاویز کا اطلاق نہیں ہوگا،اگر تمام ملازمین کے وکلاحکومتی تجاویز کی حمایت کرتے ہیں تو ان پر عمل ہو گا،اگر ملازمین کے وکلاکو حکومت کی تجاویز پر اعتراض ہے توہم واپس لے لیں گے،اگر عدالت نظر ثانی منظور نہیں کرتی تو تجاویز برقرار ہیں، عدالت سے استدعا یہی ہے کہ نظر ثانی درخواستیں منظور کرے اور فیصلہ دے۔اس دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مسٹر اٹارنی جنرل، اپنے دماغ میں یہ بات رکھیں کہ موجودہ کیس کا رنگ بدل چکا ہے، موجودہ کیس نظر ثانی کی حدود سے باہر نکل چکا ہے ، موجودہ کیس نظر ثانی ہے لیکن ہم نے نئے سرے سے قانون کی تشریح شروع کی،ملازمین کے کیس میں بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے،ہماری کوشش انصاف اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہے،ہمارے لیے آئین اور قانون ہی سب کچھ ہے ،سرکاری محکموں میں تقررکے چند بنیادی اصول ہیں ،حکومت تقررکے اصولوں پر عمل کرنے کی پابند ہے ، تقرر میں شفافیت کے لیے اشتہار،ٹیسٹ اور میرٹ ضروری ہے،عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ سرکاری محکموں میں نوکریوں کی بندر بانٹ نہ ہو ،گریڈ ایک سے7تک کے تقررکی کوالیفیکیشن سخت نہیں ہوتی،ایسی بھرتیوں کا بھی اشتہار ہونا چاہیے،ہم بنیادی حقوق کا تحفظ کر رہے ہیں،سب ججز متفق ہیں کہ یہ عوامی مفاد کا کیس ہے،آرٹیکل3 /184 کا اچھا کیس تھا لیکن مرکزی کیس میں اس کا اطلاق ہو چکا ہے،عدالت عظمیٰ آئین اور آئینی حدود کی پابند ہے،عدالت گزشتہ 30 سال سے بھرتیوں کے طریقہ کار پر عملدرآمد کرا رہی ہے ،عدالت میرٹ اور شفاف بھرتیوں پر کئی فیصلے دے چکی ہے،جسٹس جواد ایس خواجہ نے اوگرا کیس میں ایک بہترین فیصلہ دیا تھا،حکومت نے اپنی تجاویز میں تسلیم کیا کہ قواعد کو مدنظر نہیں رکھا گیا ، ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے،آئین و قانون کے مطابق طریقہ کار پر عمل ضروری ہے،ہمیں تضادات میں نہیں پڑنا چاہیے ، ان لوگوں کو جب نکالا گیا ان کے حقوق متاثر ہوئے ، ملازمین کی بھرتی کے وقت بھی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی،برطرف ملازمین سے ہمدردی ہے مگر عدالت نے آئین و قانون کو دیکھنا ہے ، سہولت بھی دینا ہوگی تو آئین کے مطابق دیں گے ، حکومتی تجاویز جائزہ لیں گے لیکن فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہوگا،یقینی بنائیں گے آئینی اداروں میں کوئی غیر آئینی طریقے سے داخل نہ ہو،اٹارنی جنرل صاحب، ہم آپ کی جانب سے ایکٹ پر ٹھوس دلائل دیے جانے کے خواہش مند تھے،ملازمین 1997ء سے 1999ء کے درمیان نکالے گئے، ملازمین نے10،11برس میں نئی ملازمتیں یا کام بھی کیے،قانون ریاست کے دیے گئے قوانین کا محافظ ہوتا ہے،اگر آپ نے ایکٹ پر معاونت کی تو ٹھیک ورنہ عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی،فیصلہ وہی ہوگا جو آئین،قانون اور عوام کے مفاد میں ہوگا ۔
