کچھ مدت سے مشرق وسطی کے علاقے میں حالات سفارتی سطح پر معمول پر آ رہے ہیں۔ ایک طویل مدت کے بعد علاقے کے اہم اداکاروں نے جھڑپوں کے بجائے ڈپلومیسی پر مبنی ایک روڈ میپ وضع کیا ہے۔ اس سلسلے میں اولین طور پر اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدے کے دائرہ کار میں یکجا ہونے والے متحدہ عرب امارات نے ٹرمپ کے دور میں یہ قدم اٹھایا تھا۔ بعد ازاں اس سلسلے میں بحرین اور مراکش کی شراکت سے اسرائیل ۔ عرب تعلقات میں معمول کی سطح ایک وسیع فریم پر بیٹھ گئی۔
سیتا سیکورتی تحقیقاتی امور کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا اس موضوع پر جائزہ ۔۔۔
عرب بہار نے خطے کے ممالک کو مختلف کیمپوں میں گھسیٹ لیا جہاں وہ ایک دوسرے سے لڑے اور بہت سے ممالک خاص کر شام، لیبیا، یمن اور عراق کو کمزور کر دیا۔ خطے کی روایتی طاقتوں جیسے سعودی عرب، ایران اور ترکی سمیت مصر نے اپنی توانائی کو ملکی سلامتی کو یقینی بنانے پر صرف کی۔ چھوٹے خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور قطر بھی اس عمل میں بہت تھک گئے۔ اسرائیل کو اس عمل کے فاتح کے طور پر دیکھا گیا، حالانکہ اس کے خلاف دھمکیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ متنوع ہوتی جا رہی تھیں۔ ایک طرف جہاں عرب ممالک آپس میں تقسیم اور کمزور ہو رہے تھے، وہیں خطے کے دو اہم حریف ایران اور ترکی شام پر باہمی پراکسی جنگ میں داخل ہو گئے۔ اب ایک نئے دور کا دروازہ کھولنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ترکی اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اس طرح کا اقدام حیران کن طور پر پہلی بار سامنے آیا۔ دونوں اداکاروں نے جو عرب بہار کے بعد تقریباً ہر علاقائی بحران میں آمنے سامنے آچکے تھے، بالآخر سمجھوتہ کرنے کو ترجیح دی۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے یو اے ای کے دورے کے ساتھ ہی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معمول پر آنے کا عمل اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ تاریخ میں پہلی بار کسی اسرائیلی وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات جا کر پہلے معاہدے پر دستخط کیے۔ بینیٹ کے دورے سے عین قبل قطر نے ترک صدر ایردوان کی میزبانی کی۔ اس موقع پر ترک صدر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ قطر ترکی کے لیے کس قدر اہم ہے، اس دورے سے خطے کے انتہائی اہم اسٹریٹجک ملک کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات کے اسٹریٹجک مواد کو محفوظ رکھا جائے گا۔ دوحہ کا ایک اور دورہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان تھا۔ یہ دورہ 2017 کی قطر کی ناکہ بندی کے بعد معمول پر آنے کے عمل کا تقریباً عروج تھا۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان معمول پر لانے کی کوششوں اور ترکی-مصر اور ترکی-اسرائیل کے درمیان معمول پر لانے کی کوششوں پر غورکیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ خطے میں مفاہمت کا ایک نیا دور ابھر سکتا ہے۔ تاہم، توقعات کو بلند رکھنا درست مؤقف ثابت نہیں ہو گا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔
پہلا یہ کہ معمول پر لانے کی کوششیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئیں جب عالمی سطح پر رقابت بڑھ رہی تھی۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ چین اور روس اور مغرب کے درمیان دشمنی ہر گزرتے دن کے ساتھ تنازعہ کی شکل اختیار کر رہی ہے، یہ ممکن نہیں ہو گا کہ نظامی انتشار خطے پر مثبت انداز میں اثرَ انداز ہو سکے۔ اس تناظر میں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ جہاں امریکہ اپنی توجہ چین کی طرف مبذول کر رہا ہے، وہ پہلے ہی ایک ایسا رویہ اختیار کر چکا ہے جو مشرق وسطیٰ کو اپنے حالات پر چھوڑ تا ہے۔ اگرچہ بائیڈن انتظامیہ نے اس کے برعکس بیانات دیے ہیں لیکن افغانستان میں جو کچھ ہوا وہ مشرق وسطیٰ کے اداکاروں کے لیے ایک سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ علاقائی سطح کے مسائل ابھی تک حل نہیں ہوئے۔ لیبیا، لبنان، یمن اور عراق جیسے ممالک، خاص طور پر شام، تنازعات کے امکانات کے ساتھ سب سے زیادہ ممکنہ منظرناموں میں شامل ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازعات کا ماحول ختم ہوچکا ہے۔ ایک اورمعاملہ یہ ہے کہ سیاسی جدوجہد کے محاذ پر کوئی اتفاق رائے سامنے نہیں آسکا۔
تیسراور سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ایران کی جوہری پالیسی ایک ایسا مسئلہ ہے جو بدستور مبہم ہے۔ ویانا مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے تہران کو مراعات دینی ہوں گی۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ جب یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، اسرائیل کی جانب سے لندن، واشنگٹن اور خلیجی خطہ میں ایران کے فوجی حل کے لیے صف بندی کرنے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔ اس امکان کے فوجی تصادم میں تبدیل ہونے کے خطرے کا مطلب یہ ہے کہ خطے کے لیے معمول کی فضا مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
نتیجتاً معمول کی فضا کا قیام مجبوری اور ترجیحات کے ساتھ منظر عام پر آنے والا ایک عمل ہے تا ہم اس کی راہ میں متعدد نازک موڑ موجود ہیں۔
