مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) عبرانی چینل 11 نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے قابض فوج کو پتھراؤ کرنے اور پٹرول بم پھینکنے والے فلسطینیوں کو بے دریغ گولی ماردینے کی ہدایت کی ہے۔ اسرائیلی چینل کے مطابق نئی ہدایات میں اسرائیلی فوج کو فلسطینیوں کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال، گولی مارے اور تشدد کی اجازت دی گئی ہے۔ نئی ہدایات میں سپاہی پتھراؤ یا کسی بھی حملے کی صورت میں پورے مجمع کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پتھراؤ ختم ہوجائے تب بھی مظاہرین کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ فوجیوں کی طرف سے فلسطینی بچوں، لڑکوں اور نوجوانوں کو نشانہ بنانے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ پتھراؤ کرنے والوں یا آگ لگانے والے آلات سے کوئی خطرہ نہ ہو تو وہ گولی نہیں چلائیں گے ۔ دوسری جانب مصر کے 2اعلیٰ اختیاراتی وفود مشترکہ امور کوآگے بڑھانے اور تعمیر نو کے منصوبوں کے معاینے کے لیے فلسطین کے جنگ زدہ اور محاصرہ زدہ علاقے غزہ پہنچے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق مصر کے ایک وفد میں مصری انٹیلی جنس کے 4عہدے دار شامل تھے، جو شمالی سرحد بیت حانون گزرگاہ سے غزہ داخل ہوئے۔ وفد نے 24گھٹنے غزہ میں قیام کیا۔ اپنے دورے کے دوران مصری وفد نے اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی قیادت سے ملاقات کی،جس میں دو طرفہ امور، غزہ کی تعمیر نو اور اسرائیل کے ساتھ سیکورٹٰ امور پر بات چیت کی گئی۔ خبررساں اداروں کا کہنا ہے کہ مصر سے آنے والے دوسرے وفد نے غزہ میں حماس کی قیادت سے ملاقات کی ہے۔ یہ وفد رفح گزرگاہ سے غزہ داخل ہوا جو غزہ میں مصر کی نگرانی میں جاری تعمیر نو کے منصوبوں کا جائزہ لے گا۔
