
دہرہ دون (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں حکمراں جماعت بھارتی جتنا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے انتہاپسند ہندؤوں کی جانب سے ایک مذہبی اجتماع میں مسلمانوں کو نسل کشی کی دھمکی دے دی گئی ۔ اتراکھنڈ میں 3روزہ ’دھرم سنسد‘ نامی مذہبی اجتماع کی وڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں۔ اجلاس میں بی جے پی خواتین ونگ کی رہنما تیاگی اور بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے نے بھی شرکت کی۔ انتہا پسند گروہ ہندو رکشا سینا کے پربودھانندگری کا کہنا تھا کہ میانمر میں روہنگیوں کے قتل عام کی طرح ہر ہندو کو مسلح ہو کرمسلمانوں کا صفایا کردینا چاہیے ۔ سوشل میڈیا پر گردش ہونے والی وڈیوز کے بعد بھی پولیس نے نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ انتہاپسند رہنما کا کہنا تھا کہ جو کچھ میں نے کہا اس پر نادم نہیں ہوں، مجھے پولیس کا خوف نہیں ہے اور اپنے موقف پر قائم ہوں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس اسٹیشن میں ترنمول کانگریس لیڈر اور آر ٹی آئی کارکن ساکیت گوکھلے کی جانب سے پولیس کو شکایت درج کرائی جاچکی ہے،تاہم پولیس نے اس معاملے میں خاموشی اختیار کرکھی ہے۔ ایک اور انتہا پسند رہنما انا پرنا نے کہا کہ 2 لاکھ مسلمانوں کو مارنے کے لیے صرف 100 رضاکار چاہییں۔ اگر مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتے ہو تو قتل کردو اور جیل چلے جاؤ۔ آنند سواروپ کا کہنا تھا کہ اس سال ہم مسلمانوں اور عیسائیوں کو مذہبی تہوار نہیں منانے دیں گے ۔ مسلمانوں کی جائدادیں خریدو اور اپنے گاؤں مسلمانوں سے پاک کردو، جو ہندو بن جائے اسے چھوڑ دو جو نہ بنے اسے قتل کرڈالو۔ اب کوئی دوسرا راستہ نہیںہے۔
