صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ ترکی کی بین الاقوامی تعلقات اور اقتصادیات میں ’دنیا 5 ممالک سے بڑی ہے‘ شعور کے ساتھ جاری جدوجہد سامراجیت اور مظالم پر قائم کردہ عالمی نظام میں تبدیلی لانے کا مقصد رکھتی ہے۔
صدر ایردوان نے اتاترک مرکزِ ثقافت میں 8 ویں نجیب فاضل ایوارڈ تقریب سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے زندگی کی حقیقت ہونے تا ہم اس تبدیلی اور کرپشن میں واضح فرق پایا جاتا ہے، بنی نو انسان ایک بہت بڑی تبدیلی ایک پہلو سے انحطاط کے عمل سے گزر رہے ہیں ،جس سے اس کی قدیم اقدار کو پچھلی 2 صدیوں میں کافی نقصان پہنچا ہے، جدیدیت کے ساتھ ساتھ ان کی فطرت، ماحول اور دیگر مخلوقات جن کے ساتھ وہ زندگی بانٹتے ہیں، کے بارے میں لوگوں کے نقطہ نظر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
جناب ایردوان نے مزید کہا کہ ’’ کہ ترکی کی بین الاقوامی تعلقات اور اقتصادیات میں ’دنیا 5 ممالک سے بڑی ہے‘ شعور کے ساتھ جاری جدوجہد سامراجیت اور مظالم پر قائم کردہ عالمی نظام میں تبدیلی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ہم کسی بھی ایسے نقطہ نظر کو مسترد کرتے ہیں جو اشرف المخلوقات انسانی اقدار کو مسخ کرتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی تہذیب اپنے پیغامات کے ساتھ جو کہ زمانوں سے ماورا ہے، جدید لوگوں کے ذہنی دباؤ سے نجات کا نسخہ پیش کرتی ہے۔ اسلامی تہذیب جس کی بنیاد سائنس، حکمت، اخلاقیات اور انصاف پر رکھی گئی ہے، اس کا مقصد دنیا کو خوبصورت بنانا اور اسے تمام مخلوقات کے لیے حتی الا امکا قابل رہائش مقام بنانا ہے۔
