English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

غربت ختم کرنے میں ناکامی: اب غریب ختم ہوں گے

القمر
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرتے ہوئے تقریباً 150 اشیا پر سیلز ٹیکس کی مد میں دی گئی چھوٹ کو ختم کر دیا گیا ہے یا اس کی شرح 17 فیصد کر دی گئی ہے جس سے حکومت کو اپنے خزانے میں 343 ارب روپے اضافے کی توقع ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے پیش کیے گئے اس منی بجٹ کو حزب اختلاف کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ یہ بجٹ ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر کر جنم دے گا تاہم وزیر خزانہ نے اس بجٹ سے غریب آدمی کے متاثر ہونے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ چھوٹ درآمدی اشیا پر ختم کی گئی جو غریب آدمی استعمال نہیں کرتا۔وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے منی بجٹ کے دفاع اور اس سے غریب آدمی کے متاثر نہ ہونے کے دعوے کو معیشت اور تجارت سے وابستہ افراد مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق منی بجٹ نا صرف مہنگائی میں اضافہ کرے گا بلکہ اس کی وجہ سے ملک کی معاشی شرح نمو پر بھی برے اثرات مرتب ہوں گے جس کی وجہ خام مال پر لگنے والا سیلز ٹیکس یا ان پر دی گئی چھوٹ کا خاتمہ ہے جو ملک میں پیداواری عمل کو سست کر سکتا ہے۔
وزیر خزانہ شاید اس خام خیالی کا شکار ہیں کہ وہ عوام کو بے وقوف بنا لیں گے مگر عوام بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کے ساتھ اس بجٹ کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ غربت کے خاتمے کی سر توڑ کوشش کے بعد اب بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ حکومت نادانستہ طور پر مجبور ہوکر غریب کے خاتمے کی کوشش کررہی ہے۔ تازہ ترین منی بجٹ اس کا عکاس ہے۔ اس بجٹ کے بعد مہنگائی کا طوفان آئے گا، غریب پر عرصۂ حیات مزید تنگ ہوگا، لوگ زندہ رہنے کےلیے چور بازاری پر مجبور ہوجائیں گے۔ اور یہ چور بازاری، درمیانی راستے غریب کو اسپتال کے راستے قبرستان لے جائیں گے اور یوں غربت کے بجائے غریب کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس وقت وطن عزیز میں افراط زر کی شرح 12.3 فی صد کو چھورہی ہے۔ یہ شرح حکومت پاکستان کے اعداد و شمار پر نگاہ رکھنے والے ایک ادارے ہی نے بتائی ہے۔ گزشتہ 21 مہینوں کے درمیان یہ انتہا کا ریکارڈ بناتی شرح بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ حکومتی ترجمان مگر دعویٰ کر رہے ہیں کہ روزمرہ اشیاء خاص کر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ میڈیا میں گھسے چند سیاپا فروش لیکن اسے عوام کے سامنے نہیں لارہے۔ مہنگائی کی دہائی مچائے جا رہے ہیں۔
نئے سال کی شام کو آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے پیٹرولیم مصنوعات پر 4 روپے فی لیٹر محصول لگانے کا اعلان سامنے آ گیا۔ منی بجٹ کے بعد اس اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور اپوزیشن لیڈروں کے بیانات میں مزید شدت اور کاٹ دیکھنے میں آئی۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی کے جس اجلاس میں منی بجٹ منظور ہونا تھا، اسے کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ دو ہفتے تک حکومت سادہ اکثریت سے منی بجٹ منظور کروا لے گی۔ اس دوران 12 جنوری کو عالمی مالیاتی فنڈ کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہو گا جس میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ ہونا ہے۔ البتہ آئی ایم ایف نے اس ادائیگی کو 550 ارب روپے کے اضافی محصولات کے علاوہ اسٹیٹ بنک کو خود مختاری دینے کی قانون سازی سے مشروط کیا ہوا ہے۔ حکومت نے ضمنی بجٹ کے تحت 360 ارب روپے کے محصولات عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ باقی کمی پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا کر پوری کی جائے گی۔ اسٹیٹ بنک کی خود مختاری کے لئے بھی قانون قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں ان اہم بجٹ تجاویز اور اسٹیٹ بنک کے بارے میں بل کی منظوری کی بجائے اجلاس اچانک ملتوی کیا گیا ہے۔ تمام تر حکومتی دعوؤں سے قطع نظر یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی حلیف جماعتیں ابھی تک منی بجٹ کی سرکاری تجویز منظور کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ گو کہ وزیر اطلاعات نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ منی بجٹ کی منظوری سے پہلے قواعد کے مطابق سینیٹ کی تجاویز لینا ضروری ہے، اس لئے دو ہفتے بعد یہ معاملہ طے ہو جائے گا۔ فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا ہے کہ حلیف جماعتوں کے دو، دو وزیر وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں جنہوں نے کابینہ کے خصوصی اجلاس میں منی بجٹ کی منظوری دی ہے۔ اس طرح حکومتی ترجمان یہ یقین دلانا چاہ رہے ہیں کہ منی بجٹ کی منظوری میں کوئی رکاوٹ عائد نہیں ہے تاہم قومی اسمبلی کے اجلاس کا غیر معینہ مدت کے لئے التوا الگ کہانی سناتا ہے۔
خبروں کے مطابق پاکستانی وزارت خزانہ کے نمائندے درپردہ مواصلت میں آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ اس کی تمام شرائط پوری کرنے کے لئے اقدامات کر لئے گئے ہیں، اس لئے 12 جنوری کے اجلاس میں چھے ارب ڈالر کے مالی پیکیج میں سے ایک ارب ڈالر سے کچھ زائد رقم کی ادائیگی منظور کرلی جائے تاکہ پاکستان کے مالی معاملات میں حائل رکاوٹیں دور ہوں۔ آئی ایم ایف کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ تاخیر کے باوجود اس کی تمام شرائط پر عمل ہو گا۔ سوال یہ ہے کیا آئی ایم ایف کا بورڈ پاکستان کی ان یقین دہانیوں پر بھروسا کر کے اپنا معمول کا طریقہ کار نظر انداز کرنے پر آمادہ ہو جائے گا؟ آئی ایم ایف سے معاملات کے حوالے سے حکومت پاکستان کا حالیہ ریکارڈ قابل ستائش نہیں رہا۔ شوکت ترین نے عہدہ سنبھالنے کے بعد حفیظ شیخ کے دور میں طے پانے والے معاہدے کی شرائط کو تبدیل کروانے کے لئے دوبارہ مذاکرات کا اعلان کیا تھا۔ ورنہ اصولی طور پر جو اضافی محاصل اب منی بجٹ کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، انہیں جون میں بجٹ کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔ اسی طرح اسٹیٹ بنک کی خود مختاری کا معاملہ بھی بجٹ کے ساتھ ہی طے ہونا تھا۔
منی بجٹ کو قومی اسمبلی کے روبرو رکھنے سے قبل حکومت نے تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کا اجلاس بھی طلب کیا تھا۔ عمران خان صاحب نے اس اجلاس کی صدارت فرمائی۔ طویل وقفے کے بعد رپورٹر کے تجسس کو بروئے کار لاتے ہوئے میں نے مذکورہ اجلاس میں شریک کم ازکم دس لوگوں سے رابطہ کیا۔ ان سے الگ الگ گفتگو کے بعد دریافت ہوا کہ مذکورہ اجلاس کے دوران کسی ایک رکن نے محتاط ترین الفاظ میں بھی وزیر اعظم کو متنبہ نہیں کیا کہ شوکت ترین صاحب کا تیار کردہ منی بجٹ مہنگائی کی نئی اور شدید ترین لہر کو مہمیز لگائے گا۔ زر عی حلقوں سے تعلق رکھنے والے چند اراکین نے اگرچہ شکوہ کیا کہ بازار میں کھاد سرکار کے طے کردہ نرخوں کے مطابق بآسانی میسر نہیں۔ مناسب کھاد کے بغیر جو فصلیں بوئی گئی ہیں بھرپور پیداوار نہیں دے پائیں گی۔
 حکومتی نشستوں پر براجمان ہوئے اراکین گویا مہنگائی کو ہمارا بنیادی مسئلہ تصور نہیں کر رہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ان کی کثیر تعداد نے منی بجٹ کے خلاف دہائی مچاتے اپوزیشن اراکین کے خلاف نہایت حقارت سے ”چور۔ چور“ کی آوازیں بھی بلند کیں۔ حکومت کا دل وجاں سے ساتھ دیا۔ اپوزیشن جماعتیں گزشتہ کئی دنوں سے جبکہ تاثر یہ پھیلارہی تھیں کہ 25 سے زیادہ حکومتی اراکین ان سے رابطے میں ہیں۔ آئندہ انتخاب کے دوران وہ تحریک انصاف کی ٹکٹ پر کھڑے ہونا نہیں چاہ رہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی سرپرستی کے خواہش مند ہیں۔ حکومتی بنچوں کی جانب سے اپوزیشن کے خلاف ان کا جارحانہ رویہ مذکورہ تاثر کو شدت سے رد کرتا نظر آیا۔اپوزیشن کو حکومتی صفوں سے منی بجٹ کے خلاف مزاحمت کی واقعتاً امید ہوتی تو اسے بھڑکانے کے لئے قائد حزب اختلاف بذات خود ایوان میں موجود ہوتے۔ شہباز شریف صاحب نے مگر وہاں تشریف لانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی.
پیر، 3جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post غربت ختم کرنے میں ناکامی: اب غریب ختم ہوں گے appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے