نئے قمری سال کا آغاز ہوچکا ہے اور اس سال کی خوشی منانا اور دعوتوں میں ڈوب جانا بہت آسان عمل ہے۔ تاہم ان دعوتوں اور خوشیوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت لازم ہے کہ ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں اور خود احتسابی کے عمل سے گزریں کہ آنے والے سال میں ہمارے لیے کیا بہتر ہے اور ہم اسے کیسے بہتر بنا سکتےہیں۔ نئے سال کی توانائی اور امیدوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اس بات کی یقین دہانی کروانی ہے کہ بطور مسلمان ہم اگلے سال دس نئے عہد کریں گے اور ان کو اپنی زندگیوں میں لاگو کرنے کی کوشش کریں گے۔
1۔ تحمل مزاج بنیں
قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ
“ اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔” [القرآن 8:46]
ایک اہم سبق جو ہمیں اللہ تعٰالی نے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دیا وہ یہی ہے کہ ہمیں زندگی میں جو بھی جیسی بھی مشکل درپیش آئے ہمیں اس پر صبر کرنا چاہیے۔ آیا یہ تکلیف ہمیں جسمانی ہو یا دنیا کی جانب سے کوئی رکاوٹ ہو ۔ پس ہمیں دنیا میں جو بھی مشکل اور تکلیف درپیش ہو ہمیں اس پر صبروتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ” صبر سے بڑی اور بہتر نعمت کسی بھی عطا نہیں ہوسکتی”۔ البخاری
2۔ صدقہ و خیرات میں اضافہ کریں
ان لوگوں کی مثال جو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں ایسی ہے کہ جیسے ایک دانہ جو سات بالیں اگائے ہر بال میں سو سو دانے، اور اللہ جس کے واسطے چاہے بڑھاتا ہے اور اللہ بڑی وسعت جاننے والا ہے۔” [القرآن 2:261]
اسلام میں کسی قسم کی خیرات آیا یہ صدقہ کسی ضرورت مند کو صدقہ کی صورت میں ہو یا پھر کسی اجنبی کے لیے ایک مہربان مسکراہٹ کی صورت میں ہو ہم سب پر لازم ہے۔ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی مدد کرکے درحقیقت ہم اپنی ہی زندگیوں کو خوبصورت بنا رہے ہوتے ہیں۔
3۔ زیادہ سے زیادہ دعا کریں
اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو میں نزدیک ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، پھر چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔[القرآن 2:186]
اگرچہ ہم دن بھر اپنی ضرورت کی دعاؤں پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں تاہم یہ بھی لازم ہے کہ ہم اپنی ضرورت کے علاوہ بھی دعاؤں اور عبادات کو مدنظر رکھیں۔ اللہ تعٰالٰی سے محبت کا اظہار مختلف طریقوں سے ہوسکتا ہے اور ایک زائد دعا ہمارے رب اور ہمارے درمیاں تعلقات کو مزید مضبوط بنا کر اسے ایک الگ سطح تک لے جاسکتی ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ بہترین عبادت دعا ہے اور اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے کہیعنی سجدے کی حالت میں انسان سب سے زیادہ اپنے رب کے قریب ہوتا ہے لہٰذا سجدے میں زیادہ دعا مانگا کرو۔ (صحیح مسلم).
4. عبادت پر توجہ
قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ "پھر جب نماز سے فارغ ہو جاؤ تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہونے کی حالت میں یاد کرو، پھر جب تمہیں اطمینان ہو جائے تو پوری نماز پڑھو، بے شک نماز اپنے مقررہ وقتوں میں مسلمانوں پر فرض ہے۔ [القرآن 4:103]
اگرچہ یہ ہمارے لیے آسان ہے کہ ہم اپنی عبادات میں تاخیر کر لیں یا پھر اپنے کاموں کو اس پر ترجیح دے کر انہیں چھوڑ دیں تاہم ہمیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ عبادات سب سے اہم ترین چیز ہیں اور جب عبادت کی بات آئے تو دنیاوی کاموں کو پس پشت ڈال دینا چاہیے۔ قرآن کریم اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں یاددہانی کرواتے ہیں کہ نماز ایک ایسی چیز ہے جس کے لیے ہمیں ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔
5.خود کو تعلیم یافتہ بنائیں
قرآن کریم میں سورہ علق میں ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ” اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے سب کو پیدا کیا۔انسان کو خون بستہ سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کرم والا ہے۔جس نے قلم سے سکھایا۔انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔”[القرآن 96:1-5]
اسلام کی ایک اہم تریں خصوصیت علم حاصؒ کرنا ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے غور فکر کرنا ہے۔ صرف شہادت کہہ دینے اور جسمانی طور پر دعا کرنے پر یقین رکھنا محض ایک سادہ عمل نہیں ہے اس کا یہ مطلب بھی ہے ہم مسلسل دین، تاریخ اور کائنات سے متعلق علم حاصل کرتے رہیں گے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ” علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے”۔
6۔ غصے سے بچیے
سنت پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ جس بات کی تعلیم ہمیں قرآن کریم نے دی اس کو ذہن میں رکھ کر ہمیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ غصے کو پرہیز انسان کے لیے نفع مند ہے۔ اور اپنے غیر منطقی جذبات پر قابو کر ہم نہ صرف معاشرے میں بلکہ اپنے نفس کے ساتھ امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا” ’’ بہت زیادہ طاقتور وہ نہیں جو (مقابل کو) بہت زیادہ بچھاڑنے والا ہے ، بہت زیادہ طاقتور صرف وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔‘‘(البخاری)
اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ "حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آجائے کھڑا ہو تو بیٹھ جائے پھر اسکا غصہ ختم ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ لیٹ جائے۔ ( سنن ابو داؤد)
7. غیبت اور فضول گوئی سے پرہیز
قرآن کریم نے اس متعلق واضح بتایا ہے کہ "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہاے پاس کوئی سی خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو کہیں کسی قوم پر بے خبری سے نہ جا پڑو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو۔” [القرآن 49:6]
فضول گفتگو اور غیبت ہمارے معاشرے کا ایک انتہائی نقصان دہ پہلو ہے اور اسلام ہمیں غلط معلومات اور خبرین پھیلانے سے رکوتا ہے اور محض ایک کہانی سنانے کی خاطر کسی کو کبیدہ خاطر کرنے سے منع کرتا ہے۔ اس طرح کی عادات سے چھٹکارا پانے کے لیے مضبوط قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے تاہم ہمیں یہ ہرصورت کرنا چاہیے۔
8۔ زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن کریم کریں
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ "ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی بڑی برکت والی تاکہ وہ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ عقلمند نصحیت حاصل کریں۔ [القرآن 38:29]
ہمیں اپنی مصروفیات سے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے مگر صرف پانچ منٹ کے لیے بھی قرآن کریم کو سن لینا یا اس کی تلاوت کر لینا ہمارے لیے مفید ہوسکتا ہے اور ہمیں اپنے نئے سال کے عہد نامے میں اس کو لازمی شامل کرنا چاہیے۔ چونکہ قرآن کریم اللہ پاک کا کلام ہے پس ہم زیادہ سے زیادہ تلاوت کر کے اپنے اللہ کو سن سکتے ہیں اور اس طرح ہم اچھے مسلمان بن سکتے ہیں۔ حدیث قدسی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے کہ "’’ قرآن کریم کے ماہر کا انجام مقرب ومعزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ او رجو قرآن پڑھتے ہوئے اَٹکتا ہے، اور روانی سے اچھی تلاوت نہیں کرسکتا، اس کے لیے دو اجر ہیں۔‘‘ (ایک تلاوت کا اور دوسرا اس کے لیے مشقت برداشت کرنے کا)۔
9۔ معاف کرنے والے بنیں
ارشاد ربانی ہے کہ "اور تم میں سے بزرگی اور کشائش والے اس بات پر قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دیا کریں گے، اور انہیں معاف کرنا اور درگذر کرنا چاہیے، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔[القرآن 24:22]
معاف کرنے کا عمل مشکل ترین عمل ہے اور خاص طور پر بحیثیت انسان ہمارے لیے یہ بہت مشکل امر ہے تاہم یہ عمل انتہائی اجر والا ہے۔ قرآن کریم ہمیں متعدد جگہ پر یہ باور کراتا ہے کہ معاف کرنا ہی ایک بہترین مسلمان اور مومن کی نشانی ہے۔
