باڈہ (نمائندہ جسارت) باڈہ کو تحصیل کا درجہ مل نہ سکا۔ 14 برس بیت گئے، باڈہ تحصیل کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہو سکا۔ باڈہ تعلقہ موومنٹ کی جانب سے جدوجہد جاری، گزشتہ ڈھائی سال سے ہر اتوار کو ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں اس اتوار کو بھی موومنٹ کے کنوینر کامریڈ علی محمد بروہی کی رہنمائی میں باڈہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مختلف سیاسی سماجی مذہبی کاروباری اور صحافتی جماعتوں کے رہنمائوں قادر بروہی، زیب علی ساریو، عزیز بروہی، انور عسکری، نظام کولاچی، دودو دیشی، حافظ محمود ساریو، اصغر علی ساریو، وحید کاندھڑو، اصغر نوناری، نور احمد ہیسبانی، نبی رضا بلوچ، امین سیال، جمیل اشرف چانڈیو، واحد سندھی، احمد خان زہری، جی ایم چنجنی، مور سندھی، کوڑل ملاح، فقیر جلال ساریو، جمال خاصخیلی، طاہر نور ہیسبانی، اندوسٹھ پوپن مل، فیصل بروہی اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور نعرے بازی کر کے سخت احتجاج کیا۔ اس موقعے پر رہنمائوں کا کہنا تھا کہ باڈہ شہر قدیمی تاریخی اور کاروباری شہر ہے لیکن گزشتہ دو دہائیوں سے باڈہ شہر کو جان بوجھ کر تباہ و برباد کردیا گیا ہے جس کے ذمے داران علاقے کے منتخب نمائندگان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں کوئی بھی بنیادی سہولت میسر نہیں جس سے مقامی باشندے دوسرے شہروں کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے شہر کو کوئی بھی میگا پروجیکٹ نہیں دیا گیا ہے۔ شہر سے گزرنے والی سڑک مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے۔ حکمرانوں اور مقامی منتخب ایم پی اے ایم این اے کے وعدے اور متعدد اعلانات کے باوجود 14 سال گزر جانے کے بعد بھی باڈہ شہر کو بائی پاس اور تحصیل کا درجہ نہیں مل سکا جس کے بعد شہری سخت مایوس اور پی پی سے نالاں ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ باڈہ شہر جو کہ 14 وارڈز پر مشتمل ہے لیکن حکومتی جماعت کی اقربا پروری کے تحت اس کو میونسپل کمیٹی کا بھی درجہ نہیں دیا گیا ہے۔ باڈہ تعلقہ موومنٹ کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ شہر کے عوام کو ہربار سبز باغ دکھا کر سیاسی بازی گر ہمیشہ ووٹ تو لیتے رہے ہیں لیکن ووٹ کا حق ادا نہیں کیا کرتے ہیں اور باڈہ کے عوام کو ووٹ دینے والی مشین سمجھ کر لوٹا گیا ہے۔ انہوں نے تنبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اب الیکشن کا سیزن قریب ہے اور پی پی والے ووٹ لینے ایک بار پھر عوام سے رجوع کریں گے اس لییے ہم ان کو واضح الفاظ میں بتا رہے ہیں کہ اگر باڈہ تحصیل کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تو پھر پیپلز پارٹی ہم سے کوئی بھی امید نہ رکھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک باڈہ تحصیل کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا تب تک ہماری یہحریک جاری رہے گی۔
