English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکہ کے معروف اداکار و کامیڈین باب سیگٹ انتقال کر گئے

القمر

امریکی سِٹ کام ‘فل ہاؤس’ میں ڈینی ٹینر کا کردار ادا کرنے والے مزاحیہ اداکار باب سیگٹ اپنے مداحوں کو ہمیشہ کے لیے اداس چھوڑ گئے ہیں۔

باب سیگٹ کی عمر 65 برس تھی۔ وہ اتوار کو امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ ابتدائی تفتیش کے بعد ان کی موت کو طبعی قرار دیا گیا ہے۔

باب سیگٹ فلوریڈا میں ایک گروپ کے ساتھ کامیڈی ٹوور پر تھے۔ ہفتے کو انہوں نے ایک پرفارمنس بھی دی تھی جو ان کی زندگی کی آخری پرفارمنس ثابت ہوئی۔ ​

باب سیگٹ کا شمار امریکہ کے نمایاں مزاحیہ اداکاروں میں ہوتا تھا۔ وہ نہ صرف ‘فل ہاؤس’ میں اپنی اداکاری کی وجہ سے مشہور تھے بلکہ مختلف پروگراموں کی میزبانی کے لیے بھی انہیں یاد کیا جاتا تھا۔

باب سیگٹ سے ڈینی ٹینر تک

17 مئی 1956 کو امریکی ریاست پنسلوینیا کے شہر فلڈایلفیا میں پیدا ہونے والے باب سیگٹ نے اپنے کریئر کا آغاز بطورِ اسٹینڈ اپ کامیڈین کیا تھا۔ اداکاری کو انہوں نے تجرباتی طور پر اپنایا تھا لیکن ان کا تجربہ کامیاب ثابت ہوا۔

امریکی سِٹ کام ‘فل ہاؤس’ میں انہیں بن ماں کی تین بیٹیوں کے باپ ڈینی ٹینر کا کردار ملا تھا جو اپنی بیٹیوں کو ماں کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیتا۔

اس سِٹ کام میں باب سیگٹ کی اداکاری کو سب نے سراہا اور ‘فل ہاؤس’ 1987 سے 1995 تک صرف امریکہ میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں دیکھا گیا اور پسند بھی کیا گیا۔

اس کامیابی کے بعد باب سیگٹ کو امریکہ کے "بہترین باپ” کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔

باب سیگٹ نے ‘امریکاز فنیسٹ ہوم ویڈیوز’ نامی ایک شو کی بھی نو سال تک میزبانی کی۔ اس شو میں وہ امریکہ بھر سے بھیجی گئی ویڈیوز پر تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ شو کی میزبانی کرتے تھے جس میں ان کی اسٹینڈ اپ کامیڈی کی بھی جھلک نظر آتی تھی۔

باب سیگٹ کی نیٹ فلکس پر بطورِ ڈینی ٹینر واپسی

‘فل ہاؤس’ 1995 میں ختم ہو گیا تھا لیکن اس مداحوں نے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور ڈی وی ڈیز کے ذریعے اسے زندہ رکھا۔ اسی لیے جب 2016 میں نیٹ فِلکس نے ‘فلر ہاؤس’ کے نام سے اس کا سیکوئل بنانے کا اعلان کیا تو مداحوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

گو کہ اس نئی سیریز میں مرکزی کردار کینڈس کیمرون ادا کر رہی تھیں جو ‘فل ہاؤس’ میں ڈینی ٹینر کی سب سے بڑی بیٹی ڈی جے بنی تھیں۔ لیکن اس سیکویل میں باب سیگٹ کی بھی واپسی ہوئی تھی۔

فل ہاؤس اور فلر ہاؤس کے درمیان باب سیگٹ نے ‘ہاؤ آئی میٹ یور مدر’ جیسے ہٹ سِٹ کام میں بھی کہانی سنانے والے (نریٹر) کا کردار ادا کیا تھا۔ 2014 تک جاری رہنے والے اس سٹ کام میں اگرچہ باب سیگٹ اسکرین پر نظر نہیں آئے لیکن ان کے چاہنے والوں کے لیے ان کی آواز بھی کافی تھی۔

اپنے ایک انٹرویو میں باب سیگٹ کا کہنا تھا کہ ‘فل ہاؤس’ حادثاتی طور پر انہیں ضرور ملا لیکن اس نے ان کی زندگی بدل دی۔ اس سیریز کے بعد باب سیگٹ نے فلموں اور ٹی وی پر کام کرنے کے ساتھ اپنے اسٹینڈ اپ کامیڈی ایکٹس کو بھی جاری رکھا۔ اور جس وقت ان کی موت ہوئی وہ ایک ایسے ہی شو میں شرکت کے لیے فلوریڈا میں موجود تھے۔

باب سیگٹ ساتھی اداکاروں کی یاد میں

فل ہاؤس میں باب سیگٹ کے سالے کا کردار ادا کرنے والے معروف اداکار جان اسٹیموس نے ٹوئٹر کے ذریعے اپنے دوست کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ باب کی موت نے انہیں رنجیدہ کر دیا ہے۔ ان جیسا انسان اور دوست وہ کبھی نہیں پا سکیں گے۔

اداکارہ کینڈس کیمرون، جو ‘فل ہاؤس’ اور ‘فلر ہاؤس’ میں باب سیگٹ کی بڑی بیٹی ڈی جے ٹینر بنی تھیں، نے بھی انہیں بہترین انسان قرار دیا۔

معروف ہالی وڈ اداکار و کامیڈین جم کیری نے بھی باب سیگٹ کے بارے میں ٹوئٹ کرتے ہوئے انہیں کشادہ دل انسان قرار دیا جس نے اپنی زندگی بھرپور انداز میں جی۔

اسٹار ٹریک سیریز سے شہرت پانے والے اداکار جارج ٹیکے نے باب سیگٹ کو کروڑوں امریکیوں کے باپ کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اچانک موت سے انہیں دکھ پہنچا ہے۔ امریکیوں کی زندگی میں ان کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ سب ہنستے مسکراتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے