English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حیدرآباد میں ملک کے 7 ویں نیشنل انکوبیشن سینٹر کا قیام

القمر

وفاقی وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے حیدرآباد کے نوجوانوں کے دیرینہ مطالبے کو پورا کرتے ہوئے حیدرآباد میں نیشنل انکوبیشن سینٹر کے قیام کا وعدہ پورا کردیا۔ جس کے تحت وزارت آئی ٹی کے ادارے اگنائٹ اور یونیورسٹی آف سندھ جامشورو کے اشتراک سے شہر کے قلب میں 13 ہزار اسکوائر فٹ پر محیط “ایلسا قاضی” کیمپس میں رواں سال موسم گرما تک سینٹر کا قیام کیا جائے گا اس ضمن میں معاہدے کی تقریب پیر کو حیدرآباد میں منعقد ہوئی۔ جس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق تھے۔ معاہدے پر دستخط اگنائٹ کے چیف ایگزیکٹیو عاصم شہریار حسین اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد صدیق نے کیئے۔ تقریب میں ایم کیوایم کے رکن قومی اسمبلی انجینئر صابر حسین قائم خانی، سیکریٹری آئی ٹی ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت، وزارت آئی ٹی و اگنائٹ کے حکام، سندھ یونیورسٹی، آئی ٹی انڈسٹری اور بزنس کمیونیٹنی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شریک تھیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق کا کہنا تھا کہ نیشنل انکوبیشن سینٹر کے قیام سے حیدرآباد اور اس کے گردو ونواح کے نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم میسر آئے گا جہاں سے وہ دنیا کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے روشناس کرانے کے علاوہ پرکشش آمدنی کے ذریعے ایک بہترین مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں انھوں نے بتایا کہ وزارت آئی ٹی کے ادارے اگنائٹ کے تحت اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، لاہور اور پشاور میں 5 انکوبیشن سینٹرز کامیابی سے کام کررہے ہیں جبکہ فیصل آباد میں “ایگری ٹیک” کے عنوان سے انکوبیشن سینٹر کا قیام تکمیل کے مراحل میں ہے۔ اسکے علاوہ حکومت کے ڈیجیٹل پاکستان کے وژن اور ممکنہ کاروباری افراد کو سازگار ماحول کی فراہمی کیلئےمزید چھوٹے شہروں میں نیشنل انکوبیشن سینٹرز کا قیام ترجیحات میں شامل ہے۔ اس کی ایک مثال یہ تقریب ہےتاکہ حیدرآباد اور اس کے ملحقہ علاقوں میں موجود افراد زراعت، لائیوسٹاک، آرائشی صنعتی مصنوعات، ٹیکسٹائل، چینی، سیمنٹ وغیرہ سمیت مختلف صنعتوں کی تاثیر کو بہتر بنانے کیلئے مؤثر انداز میں کام کرسکیں۔
سید امین الحق نے کہا کہ سینٹر کا قیام دیہی اور شہری علاقوں کے نوجوانوں کیلئے ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا جس سے روایتی کاروباری نقطہ نظر کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی شکل میں تبدیل کیا جاسکے گا۔ اس موقع پر انھوں نے حیدرآباد کے نوجوانوں کو مبارکبا دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ یونیورسٹی کے بھی شکر گزار ہیں جس نے اس مقصد کیلئے جگہ فراہم کی۔ جبکہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں سیکریٹری آئی ٹی ڈاکٹر سہیل راجپوت اور اگنائٹ کی ٹیم بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔
وفاقی وزیر آئی ٹی کا مزید کہنا تھا کہ اچھی خبر یہ بھی ہے کہ پاکستان نے کورونا وباٰء اور دنیا بھر کی خراب معاشی صورتحال کے باوجودسال 2021 میں نمایاں اقتصادی ترقی حاصل کی۔ جس میں آئی ٹی ایکسپورٹ نمایاں رہیں ہیں۔ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر جی ڈی پی میں تقریباً 1 فیصد یعنی تقریباً 3.5 بلین امریکی ڈالر کا حصہ ڈال رہا ہے حکومت پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پاکستان میں آنٹرپرینیورشپ کلچر کو فروغ دینے کے لیے کاروبار دوست ماحول بنانے کے لیئے راست اقدامات کررہی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے بھی ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری حل میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے قوانین میں نرمی کی ہے۔ جس کے نتیجے میں، 2021 کے دوران پاکستانی سٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری آسمان کو چھو رہی ہے اور پاکستانی سٹارٹ اپس کی جانب سے تقریباً 373 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے ہیں جو گزشتہ سال کی 75 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے تقریباً 5 گنا زیادہ ہیں۔
اسی طرح ڈی جی اسکلز پروگرامز کے ذریعے آن لائن 17 لاکھ نوجوانوں کو فری لانسنگ کے حوالے سے مختلف ہائی ٹیک کورسز کی تربیت فراہم کی جارہی ہے۔ اب اس کے فیز ٹو کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق فری لانسنگ ایکسپورٹ 85 فیصد اضافے کے ساتھ 396 ملین ڈالرز تک جاپہنچی ہے۔ نیشنل انکوبیشن پروگرامز کے تحت ایک لاکھ 11 نوکریوں کے مواقع پیدا ہوئے اور 9 ارب 46 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کیلئے مفاہمتی معاہدے کیئے گئے ہیں جبکہ 4 ارب 47 کروڑ روپے کا ریونیو حاصل کیا گیا۔ ٹیک انوویشن گرانٹس کے تحت 2 ہزار 412 روزگار کے مواقع پیدا ہوئے جبکہ تقریبا 70 کروڑ کی سرمایہ کاری اور 35 کروڑ روپے کا ریونیو حاصل کیا گیا۔
سید امین الحق نے بتایا کہ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اقدامات کی بدولت مالی سال 2020-21 میں ٹیلی کام ریونیو 624 ارب روپے تک جاپہنچا جس سے حکومت کو فیس اور ٹیکسز کی مد میں 475 ارب روپے حاصل ہوئے جبکہ ٹیلی کام انڈسٹری کا مجموعی حجم 16 ارب 90 کروڑ ڈالرز تک جاپہنچا ہے۔ موبائل فون صارفین کی تعداد 188 ملین ۔۔۔۔۔ تھری جی اور فوری جی استعمال کرنے والوں کی تعداد 107 ملین جبکہ براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 110 ملین سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ٹیلی کام سیکٹر میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
اپنے خطاب میں سیکریٹری آئی ٹی ڈاکٹر سہیل راجپوت نے کہا کہ اس تقریب کی اہمیت اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہے کہ منسٹر صاحب اور میرا دونوں کا تعلق اسی صوبے سے ہے اور یہ فطری بات ہے کہ جب آپ اپنے لوگوں اپنے صوبے کیلئے کوئی بھی اچھا کام کرتے ہیں تو ایک دلی اطمینان ہوتا ہے۔ اگرچہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی موجودہ حکومت میں 3 سالہ کارکردگی پر نگاہ دوڑائی جائے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ منسٹر صاحب نے چاروں صوبوں کیلئے یکساں پراجیکٹس کا اجراٗ کروایا۔۔ کہیں کوئی سیاسی، علاقائی یا لسانی تعصب کا آپ کو دور تک بھی شائبہ نہیں ملے گا۔
ملک بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مختلف اضلاع میں 40 سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کے قیام کا ہدف جس میں سے 31 دسمبر 2021 تک 28 قائم ہوچکے ہیں۔ کراچی اور اسلام آباد میں مجموعی طور پر 40 ارب روپے لاگت سے اسٹیٹ آف دی آرٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی پارکس کے قیام کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔ آئی ٹی کمپنیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی آئی ٹی کے فریش گریجویٹس کیلئے بین الاقوامی معیار کی آئی ٹی ٹریننگ اور ملک کی تمام جامعات کی سطح پر آئی ٹی اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کا انعقاد کیا جارہا ہے۔
تقریب سے خطاب میں سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد صدیق نے کہا کہ حیدرآباد میں نینشل انکوبیشن سینٹر کا قیام نہ صرف یونیورسٹی کیلئے ایک اعزاز ہے بلکہ حیدرآباد اور گردونواح کے لوگوں کیلئے ڈیجیٹل دنیا سے خود کو منسلک کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اس کیلئے وفاقی وزیر سید امین الحق اور ان کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں اگنائٹ کے چیف ایگزیکٹیو عاصم شہریار حسین نے اگنائٹ کی کارکردگی پر بریفنگ دینے کے ساتھ معاہدے اور حیدرآباد نیشنل انکوبیشن سینٹر کے قیام کے حوالے سے تفصیلات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے