شاہ زیب قتل کیس کے سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی جس مرض کے لیے اسپتال لے جانے کی اجازت دی گئی تھی وہ سہولت تمام سرکاری اسپتال میں موجود ہے جبکہ انکشاف یہ بھی ہواہے کہ اس بیماری کے لیے محض پانچ منٹ کا پروسیجر ہوتا ہے جسکے لیے شاہ رخ جتوئی ساڑھے سات ماہ سے پرائیویٹ اسپتال میں موجود تھا.
تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ نے شاہ رخ جتوئی کو پروکٹو اسکوپی کے لیے 5 مئی 2021 کو اسپتال جانے کی اجازت دی تھی۔
محکمہ داخلہ نےشاہ رخ جتوئی کو بڑے اسپتال بھیجنےکے لیے لیٹر جاری کیا لیکن ماہرین کا کہنا ہےکہ مجرم جس اسپتال میں موجود ہے وہ کوئی بڑا اسپتال نہیں بلکہ طبی سہولت کا پرائمری لیول کا سیٹ اپ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ پروکٹو اسکوپی 5 منٹ کا پروسیجر ہے اس میں مریض کے اسپتال میں داخلے کی ضرورت نہیں پڑتی، اکثر سرجن او پی ڈی میں ایک دن میں 20 سے 25 پروکٹواسکوپی پروسیجر کرتے ہیں جب کہ پروکٹو اسکوپی کی سہولت جناح اسپتال سمیت اکثر سرکاری اسپتالوں میں میسر ہے، پروکٹو اسکوپی عموماً بواسیر کی تشخیص کے لیے کی جاتی ہے۔
شاہ رخ جتوئی 5 منٹ کے پروسیجر کے لیے ساڑھے 7 مہینے پرائیویٹ اسپتال میں داخل رہا جس پر ماہرین نے اسے انتہائی احمقانہ قرار دیا ہے۔
شاہ زیب قتل کیس کے مجرم شاہ رخ جتوئی کی جیل میں موجودگی کے بجائے اسپتال میں سہولت کے ساتھ رہنے کی خبر پر وزیراعلیٰ سندھ نے انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے کہاتھا کہ شاہ رخ جتوئی اور دیگر مجرم اسپتال میں ہیں لیکن سانحہ مری کی طرح کوئی مراتو نہیں۔

