سپریم کورٹ کے احکامات پر مختار کار ائیر پورٹ نے 16 منصوبوں کی تعمیرات بند کرنے کا نوٹس دے دیا۔
مذکورہ 16 رہائشی منصوبوں کی خرید و فروخت بند کردی جائے۔ مختار کار ائیر پورٹ احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ مختار کار ائیر پورٹ ڈپٹی کمشنر ملیر نے 40 ایکڑ زمین جعلسازی سے لینے کا انکشاف کیا تھا۔ملیر دیہہ مہران میں 40 ایکڑ سرکاری زمین کا ریکارڈ جعلسازی سے تبدیل کیا گیا تھا۔1998 میں تبدیل کیے گئے ریکارڈ پر بلڈرز نے رہائشی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔غیر قانونی قرار دئیے گئے منصوبوں میں صائمہ جناح آئیکون شامل ہے۔

شایان گرینڈ ریزیڈنسی، فریحہ ایکسیلنسی، شاذل ایکسٹنشن منصوبے بھی غیر قانونی قرار شاذل گولڈ ریزیڈنسی، فلک ناز ڈائنسٹی اور فلک ناز پریزیڈنسی غیر قانونی قرار
رہائشی منصوبے میٹرو پولس، فاطمہ گولف ریزیڈنسی کو بھی غیر قانونی تعمیرات بند کرنے کا حکم دے دیا۔
سدرہ ٹوئن ٹاورز، الرحمن ریزیڈنسی اور لانیہ آرکیڈ منصوبے بھی غیر قانونی قرار
ابراہیم ہیون، کینٹ ویو ٹاور، رومی ریزیڈنسی اور ندیم آئیکون ٹاور بھی غیر قانونی منصوبوں میں شامل ہیں۔ایس ایچ او ملیر کینٹ کو بھی غیر قانونی منصوبوں سے متعلق آگاہ کردیا گیا
