قومی اسمبلی میں ضمنی فنانس بل2021پر دوسرے روز بھی بحث جاری رہی جبکہ جمعرات کو ایوان میں بل کی منظوری کا عمل شروع کیا جائیگا۔
اپوزیشن ارکان بلاول بھٹو زرداری،خواجہ محمد آصف،احسن اقبال،سید خورشید احمد شاہ،اختر مینگل و دیگر نے کہا ہے کہ کرونا نہیں وزیر اعظم عمران خان صدی کا سب سے بڑا بحران ہے، خان صاحب نے اپنے آپ کو امیر بنا دیا مگر ملک کو کنگال کر دیا،قائد اعظم نے ہمیں انگیزوں کی غلامی سے نجات دلائی تھی مگر عمران خان نیازی نے ہمیں آئی ایم یف کا غلام بنا دیا،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نام کیساتھ سے اسٹیٹ ہٹا دیں کیونکہ یہ اب ریاست کا بینک نہیں رہا آئی ایم ایف کی برانچ بن گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمرانوں کا اقتدار کا سورج غروب ہونے والا ہے، خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں،آج بھی ارکان کو فون جارہے ہیں کہ بجٹ پر ووٹ دے دیں،جب آپکو بڑے بھائی کو بلانا پڑ جائے تو معافی مانگ کر گھر چلے جائیں، اس حکومت کو جب بھی ووٹوں کی ضرورت پڑی تو انکے پاس ووٹ پورے نہیں تھے انکے ووٹ پورے کئے گئے، ہر چیز پر ٹیکس لگ چکا، ایک چیز پر ٹیکس نہیں لگا وہ موت ہے،نا اہلی ہمیشہ حادثات کو جنم دیتی ہے،ملک کی حالت بہتر کرنی ہے تو غلط فیصلوں، جھوٹ، نیب کے غلط فیصلوں، غلط بیانی پر ٹیکس لگائیں، منی بجٹ اور سٹیٹ بینک بل کے انتہائی منفی اثرات ملک کے مستقبل پر پڑیں گے، وزیر خزانہ بتائیں یہ ڈیوٹی کے نام پر جو ٹیکس لگا رہے ہیں کیا یہ فرشتے آکر ادا کریں گے ، اتنے ٹیکسز کے ساتھ آپ حماقتوں پر بھی ٹیکس لگا دیں ، پاکستان ایک اور لبنان بن رہا ہے ،جہاں امیر امیر ترین اور غریب غریب ترین ہوگیا ہے ،آج غریبوں کی بستیوں میں بیماری، بھوک افلاس اور موت ہے ۔
وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ اپوزیشن جس معیشت کو چھوڑ کر گئی وہ دیوالیہ ہونے کے قریب تھی، ہم نے ان کی دی ہوئی معیشت کو ٹریک پر لایا، دوست ممالک کی مدد اور سخت فیصلوں کی وجہ سے معیشت کو سہارا دیا، ٹیکس صرف لگژری ایٹمز پر لگائے گئے ہیں، یہ لوگ جتنا مرضی پروپیگنڈا کرلیں جتنے مرضی واک آﺅٹ کرلیں ہم ان کے ملازمین کے اکاﺅنٹس سے اربوں روپے برآمد کرتے رہیں گے۔بدھ کو قومی اسمبلی میں مالیاتی(ضمنی) بل2021پر مسلسل دوسرءروز بحث جاری رہی۔
جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ منی بجٹ پیش کرنا ہی حکومت کی ناکامی ہے، وزرا کہہ رہے ہیں اور آج وزیراعظم عمران خان نے بھی یہ کہا ہے کہ مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے حکومت اس میں کیا کرے۔مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ اس وقت ہر چیز پر ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں،اشیائے خوردونوش پر ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں، جو ٹیکس لگا ہے کیا اس سے غریب متاثر نہیں ہوں گے؟، غریب کی قوت خرید سے اشیائے خوردونوش اوپر جا چکی ہیں ، حکومت کی طرف سے یہ میزائل حملہ ہے، مزید غربت بڑھے گی، اس کے نتیجے میں ڈاکے چوریاں اور ہر طرف کرپشن ہوگی ، پہلے دس فیصد کرپشن تھی اس وقت 25 فیصد تک کرپشن ہے،آپ کرپشن کو ختم کریں، اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں اس کو واپس کریں ۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس حکومت نے ایک قسم کا ریکارڈ توڑ دیا ہے ہر دو تین مہینے بعد منی بجٹ پیش کرتے ہیں، یہ حکومت کنفیوزڈ ہے،کنفیوژن معیشت کی موت ہوتی ہے، پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کا بوجھ عام آدمی اٹھائے گا، آپ نے جو خود اکیلے فیصلے لئے اب عوام کو نظر آرہا ہے ہے کہ آپ کے فیصلے کے نتیجے میں کیا ہوتاہے، آپ کی ضد کی وجہ سے انا کی وجہ سے آپ نے اکیلے ایسے فیصلے لئے جو پاکستان کی معاشی خودمختاری پر سودا تھا،مہنگائی کی شرح کاریکارڈ آپ توڑ چکے ہو، جب عوام سے کہتے ہیں نیا پاکستان کا مطلب مہنگائی بے روزگاری اور غربت ہے تو ہم سچ کہہ رہے ہیں۔شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل جب میں نے اپنی تقریر ختم کردی تو اسد عمر کھڑے ہوئے اور میرا خیال تھا کہ وہ جس موضوع پر میں نے بات کی تھی اس کا جواب دیں گے۔

