پاکستان نے کشمیر پریس کلب پر مبینہ قبضے سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافیوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کو ہراساں کرنے، غیر قانونی گرفتاریوں اور جعلی مقدمات کے اندراج کی مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کشمیر پریس کلب پر مبینہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے اپنے گھناؤنے جرائم اور انسانیت سوز مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو زبردستی خاموش کرانے کے لیے طاقت اور جبر کا وحشیانہ استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز کشمیر پریس کلب میں ناخوشگوار سرگرمیاں دیکھی گئیں جب پولیس اہلکاروں کے ہمراہ چند صحافی وہاں پہنچے اور کلب کی نئی انتظامیہ ہونے کا دعویٰ کیا۔
پولیس اہلکاروں نے ان صحافیوں میں سے ایک کے ذاتی سیکیورٹی افسر ہونے کا دعویٰ کیا اور مذکورہ صحافی نے نے میڈیا کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘کچھ جرنلسٹ فورمز’ نے انہیں نئے عہدے داروں کے طور پر منتخب کیا ہے۔
عبوری باڈی کے دعوے جلد ہی اس وقت متنازع ہو گئے جب مقبوضہ کشمیر میں نو صحافتی اداروں کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کشمیر کے دفتر پر انتظامیہ کی کھلی حمایت کے ساتھ ساتھ زبردستی قبضے کی مذمت کی گئی اور اس عمل غلط قرار دیا گیا۔
اپنے بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ سمیت سخت اور غیرانسانی قوانین کا بڑھتا ہوا استعمال بھارت کی نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے عزم کو کبھی کمزور نہیں کر سکتی۔
دفتر خارجہ نے بین الاقوامی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور سول سوسائٹی کے دیگر کارکنوں کو ہراساں اور ان کی غیر قانونی گرفتاریوں پر بھارت سے جواب طلب کریں۔
