ویب ڈیسک —
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں پیر کو ایک مشتبہ ڈرون حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
مشتبہ ڈرون حملہ ابوظہبی کے صنعتی علاقے مصفح میں ہوا جہاں آئل سے بھرے تین ٹینکروں میں آگ بھڑک اٹھی اور اس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو بھارتی باشندے اور ایک پاکستانی شامل ہے۔
آگ لگنے کا واقعہ متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل کمپنی کی تنصیبات میں پیش آیا۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ابوظہبی کے محکمۂ پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جائے وقوعہ سے چھوٹے طیارے کی باقیات بھی ملی ہے جو ممکنہ طور پر ڈرون طیارے کی ہو سکتی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طیارے کی باقیات دھماکے اور اس کے نتیجے میں آگ کا سبب بنی۔
سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ ویڈیوز بھی وائرل ہیں جو ممکنہ طور پر مصفح کے علاقے کی ہیں جس میں فضا میں چھائے ہوئے گہرے دھویں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نواز حوثی باغیوں کی ملٹری ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم نے متحدہ عرب امارات کے اندر آپریشن شروع کیا ہے جس کی تفصیلات چند گھنٹے بعد جاری کی جائیں گے۔


ادھر اماراتی حکومت اور نیشنل آئل کمپنی نے فوری طور پر آگ لگنے کے واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یاد رہے کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار اتحادی فورسز کو متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے اور یمن کے حوثی باغیوں نے ماضی میں بھی کئی مرتبہ متحدہ عرب امارات میں میزائل یا ڈرون حملے کرنے کے دعوے کیے تھے۔
جولائی 2018 میں حوثی باغیوں نے ابوظہبی ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے ایک ماہ بعد ایئرپورٹ حکام نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایئرپورٹ کا انتظام معمول کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔
اس سے قبل دسمبر 2017 میں حوثیوں نے ابوظہبی میں ایک نیوکلیئر پاور پلانٹ کی جانب کروز میزائل فائر کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اماراتی حکام نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔
اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے لی گئی ہیں۔
