پاکستان نے بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دشمنی، نئے اور پرانے تنازعات اور ہتھیاروں کی نئی دوڑ سے خبردار کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے لیے خود کو تیار کرے۔
پاکستان نے مذکورہ مسئلے کی نشاندہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نئے سال کے پہلے اجلاس میں کی، جنرل اسمبلی کے صدر عبداللہ شاہد نے 76 ویں اجلاس میں وفود کو اپنی ترجیحات سے آگاہ کیا۔
عبداللہ شاہد نے عالمی برادری پر زور دیا کہ کورونا وائرس کو شکست دینے کے لیے ویکسین کا دوبارہ آغاز منصفانہ انداز میں کریں، ادویات کی پیداوار اور تقسیم میں تیزی لانے اور اس حوالے سے حائل رکاؤٹیں دور کرنے پر زور دیا۔
منصفانہ ویکسین کے لیے یو این جی اے کے صدر کی مہم کو تقریباً 120 رکین ممالک کی حمایت حاصل ہے، اور انہوں نے عالمی سطح پر ویکسین کے معاملے پر زور دینے کے لیے 25 فروری کو اعلیٰ سطح کی تقریب کے انعقاد کا منصوبہ بنایا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مستقل سفیر منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کو یقین دہانی کروائی کہ اسلام آباد ان کی مہم کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ان سے تعاون کرتے ہوئے اس مہم کی حقیقت کو فروغ دے گا۔
The Group of 77+China remains committed to engaging in the process of ensuring a sustainable and inclusive recovery guided by the 2030 Agenda and stands ready to work actively with the General Assembly @UN_PGA and @UNECOSOC towards the achievement of this goal.#G77#SDGs pic.twitter.com/jCgCekxox3
— Amb Munir Akram,Permanent Representative to the UN (@PakistanPR_UN) January 21, 2022
تاہم انہوں نے جنرل اسمبلی میں یہ یاد دہانی بھی کروائی کہ حقیقی دنیا سے ‘علیحدگی اختیار نہیں کی جاسکی’۔
منیر اکرم نے کہا کہ ‘ہم بڑی طاقتوں سمیت دنیا بھر میں عالمی تنازعات کا مشاہدہ کر رہے ہیں، پرانے تنازعات کے ساتھ ہتھیاروں کی نئی دوڑ بھی جاری ہے’۔
یو این جی اے کے صدر نے بھی اپنے ریمارکس میں ان مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری یو این چارٹر میں بیان کردہ امن کے اصولوں پر دوبارہ عمل پیرا ہونے کا عہد کریں تاکہ آئندہ آنے والے چیلنجز سے ہم آہنگی سے نمٹا جاسکے۔
اس موقع پر انہوں نے ویکسین کی تقسیم اور موسمیاتی تبدیلی پر بھی زور دیا۔
تاہم پاکستانی سفیر نے مستقبل قریب میں یو این جی اے کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی تے ہوئے تخفیف اسلحہ کے مؤقف پر اتفاق کیا۔
انہوں نے کہا کہ ‘دنیا کے مختلف حصوں میں نئے فوجی اتحاد قائم ہورہے ہیں اور افسوس یہ ہے کہ اقوام متحدہ ان کی حد سے غائب ہے’۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں نہ صرف امن کے ایجنڈے کے لیے اقوام متحدہ کے تعاون کی ضرورت ہے بلکہ دنیا میں امن کی بحالی کے لیے بھی تعاون کی ضرورت ہے۔
منیر اکرم نے کہا کہ ‘اس تعمیر نو کی بنیاد یو این چارٹر کے اصولوں، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی خاص طور پر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر ہونی چاہیے’۔
مذکورہ مسائل پر توجہ دینے پر زور دیتے ہوئےپاکستانی سفیر نے کہا کہ ‘ہم آج بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش عالمی اور کثیر الجہتی خطرات کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور صرف امید پر زندہ ہیں’۔
یو این جی کے صدر نے یکجہتی کی اہمیت اور اچھی امید کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے اپنی ترجیحات واضح کی اور کہا کہ’ ہمیں مشترکہ انسانیت کی قدر کرتے ہوئے تنازعات پھیلانے والوں سے بچنا چاہیے’۔
ان کا کہنا تھا کہ جیساکہ انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ عالمی وبا، جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ، دہشت گردی اور تصادم وہ کلیدی مسائل ہیں جن کا سامنا دنیا بھر کو کرنا پڑ رہا ہے۔
تاہم پاکستانی سفیر نے جنرل اسمبلی کے صدر کو یاد دہانی کروائی کہ مضبوط اقوام متحدہ صرف بحث اور مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے ہی ضروری نہیں ہے بلکہ ‘انسانی ضمیروں کی ترجمانی اور ان الفاظ پر عمل درآمد کے لیے بھی لازمی ہے جو اس پلیٹ فارم پر ادا کیے جاتے ہیں’۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘ یہ عمل اقوام متحدہ کی اصلاح کے لیے معنی خیز ہے’۔
سفیر منیر اکرم نے نشاندہی کی کہ کورونا وائرس کی وبا نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی پیش رفت کو ایک دہائی یا اس سے زیادہ عرصے تک پیچھے دھکیل دیا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ خطرے سے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔
منبع: ڈان نیوز
The post کورونا، جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ اور دہشت گردی کا سامنا دنیا بھر کو کرنا پڑ رہا ہے، پاکستان appeared first on شفقنا اردو نیوز.
