داعش کی پاکستانی شاخ نے حال ہی میں پیغام پاکستان ( پی ای پی) پر تنقید کی ہے ۔ 2018 میں دہشت گردی کے خلاف علماء کرام نے ’’ پیغام پاکستان‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں ایک متفقہ فتویٰ صادرکیا ہے جس پر 1800 سے زائد علماء کے دستخط ہیں۔ اس فتوے نے دہشت گردانہ نظریے کی نفی کی اور ان جنجگو تنظیموں کی سرگرمیوں بشمول خود کش حملوں کو اسلامی روح کے منافی قرار دیا۔ اس دستاویز کو حال ہی میں اردو میں شائع کیا گیا ہے اور اس کو یلغار کا نام دیا گیا ہے۔ اس دستاویز پر دستخط کرنے والے علماء کو داعش نے علمائے سُوء قرار دیا ہے کیونکہ ان علماء نے اسلام کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستانی حکومت کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ داعش نے اس دستاویز کی بنیاد پر پاکستان کو اسلام ملک ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
دہشت گردہ گروہ یہ دلائل دیتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سرحدوں کو تسلیم کرتا ہے، بہت ساری اقلیتوں کو ملک میں جگہ دیتا ہے اور چین، فلسطین، عراق اور شام میں مسلمانوں کے قتل عام پر ان مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیتا جبکہ اپنے ملک میں بھی مسلمانوں کو قتل کررہا ہے۔ یاد رہے کہ پیغام پاکستان نامی اس فتوے کو جنوری 2018 میں جاری کیا گیا تھا جبکہ اس کو حال ہی میں بحث کے لیے پاکستانی پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس دستاویز کی حمایت پاکستان کی اسلامک نظریاتی کونسل نے بھی کی ہے۔ داعش پہلا دہشت گرد گروہ نہیں ہے جس نے پی ای پی کی مخالفت کی ہے اس سے قبل تحریک طالبان پاکستان بھی اس دستاویز پر تنقید کر چکا ہے اور کہا ہے کہ اس کی بنیاد غلط مطالعہ پاکستان پر ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی نے اپنی کتاب ” انقلاب محسود، جنوبی وزیرستان: فرنگی راج سے امریکی سامراج تک ” میں اس دستاویز پر دستخط کرنے والے علماء کو خود کش حملوں، دہشت گردی اور قتل کو حرام قرار دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کئی برسوں سے پاکستان کو دہشت گردی اور فرقہ واریت کا سامنا ہے۔ بہت سارے مقامی اور بین الاقوامی دہشت گردہ گروہ پاکستان میں خود کش حملوں اور دہشت گردانہ حملوں کی مدد سے شریعہ نافذ کرنے کی کوشش میں ہیں۔ 2000 سے لے کر اب تک ہزاروں بے گناہ پاکستانی اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ القاعدہ ، تحریک طالبان پاکستان اور داعش اپنے بیانات اور اپنے لٹریچر میں اسلامی قوانین کو لاگو کروانے کو دہشت گرد سرگرمیوں کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
جیمز ٹاؤن فاؤندیشن میں سینیر فیلو مائیکل ، ڈبلیو ایس ریان نے 130 صفحوں پر ایک مونوگراف تحریر کیا ہے جس کا عنوان ” دی مارننگ اینڈ دی لیمپ ” ہے جس میں انہوں نے ایمن الظواہری کی جانب سے پاکستان کے آئین کا تجزیہ شامل کیا ہے جس میں ایمن الظواہری کہتے ہیں کہ پاکستان کا آئین پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ الظواہری نے پاکستان کو ایک لا دین ریاست قرار دیا اور کہا ہے کہ پاکستانی ریاست کی لادینی ریاست کے بنیادی دستاویز کی وجہ سے ہے۔ عاصم عمر جو کہ بھارتی برصغیر میں القاعدہ ( اے کیو آئی ایس) کے سربراہ ہیں نے اردو میں دو کتابیں لکھی ہیں جن میں پاکستان پاکستانی ریاست میں حملے پر بحث کی گئی ہے اور پاکستان لوگوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان میں جہاد کا حصہ بنیں۔
یہ کتابیں کتابی شکل کے علاوہ پی ڈی ایف میں بھی جگہ جگہ پھیلائی گئیں۔ عمر دسمبر 2019 میں امریکہ اور افغان حکومت کے صوبہ ہلمند میں ایک مشترکہ آپریشن کے دوران جاں بحق ہوگئے تھے۔ حزب التحریر کے سابق عالمی رہنم عبدالقدیم ظلوم، کابل حکومت کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر مولانا عبدالباقی حقانی ، ٹی ٹی پی کے رہنما ابو مہزورا، کراچی کے ایک مولانا نورالہدا اور پاکستان کی لال مسجد سے منسلک حافظ عبد الرحمٰن غازی دہشت گردوں کے حمایتیوں میں سے چند ایک ہیں جنہوں نے پاکستانی ریاست کی قانونی حیثیت پر کتابیں لکھی ہیں۔ تحریک طالبان اور القاعدہ سے منسلک دیگر گروہوں نے نئے لوگ عسکریت پسند بھرتی کرنے کے لیے بے تحاشا چیزیں چھاپیں ۔ اس مواد کا مقصد بعض کو خود کش حملوں کے لیے تیار کرنا اور اپنے دہشت گرد حملوں کو منصفانہ ثابت کرنا تھا۔
کراچی پولیس کے ایک آفیسر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک خود کش حملہ آور کو گرفتار کیا ہے جس نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ وہ عمرا اور ہدا کی تحریروں سے متاثر تھا جن میں غیر مسلموں اور حتٰی کہ اپنے مسلمانوں اتحادیوں کے خلاف بھی خود کش حملوں کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ اس مشتبہ خود کش حملہ آور نے اس ضمن میں قرآن کریم کی بھی بہت ساری آیات کے حوالے دیے اور بہت سارے منطقی دلائل سے تحریک طالبان کے مؤقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔
پیغام پاکستان کے لیے مذہبی حمایت
پیغام پاکستان نامی دستاویز پر بنیاد طور پر 1800 مذہبی سکالرز نے دستخط کیے تھے اور اس کا آغاز صدر ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا گیا تھا جس میں کئی مذہبی و سیاسی رہنما موجود تھے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریسرچ سکالرز نے مئی 2017 میں اس کا ابتدائی مسودہ تیار کیا تھا۔ جس کے بعد مختلف مذہبی مسالک سے تعلق رکھنے والےپانچ بڑے مدارس نے مذہبی رہنماؤں نے اس پر بحث کر کے اس کو حتمی شکل دی تھی۔ پیغام پاکستان نامی یہ دستاویز دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں دیباچہ ہے جس میں ملک کی سیاسی اور نظریاتی صورتحال پر تجزیہ موجود ہے۔ دوسرے حصے میں علماء کے فتاوٰی موجود ہیں ۔ اس وقت تک اس دستاویز پر 4000 سے زائد مذہبی سکالرز کے دستخط ہوچکے ہیں۔
علماء کرام کے موجودہ قومی بیانیہ کی حیثیت اختیار کرجانے والے فتویٰ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ جہاد صرف ریاست کا حق ہے، ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کسی کو اجازت نہیں اور ریاست کی اجازت کے بغیر کوئی جہاد نہیں کر سکتا۔ اس بات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے اور اس فتویٰ کے بعد اس قسم کے تمام فتاویٰ جن سے دہشت گردوں کی پشت پناہی یا نظریات کو تقویت ملتی ہو، ختم کرنا بھی ضروری ہے۔ ایسے افراد یا جماعتیں جو اس کام میں ملوث رہی ہیں، ان کو قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے۔ ایسے افراد اگر سیاست میں حصہ لیتے ہیں یا فلاحی کام کر تے ہیں تو ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
معتدل مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور میڈیا کو اس دستاویز کو عوامی سطح پر سامنے لانا چاہیے تاکہ نظریاتی کشمکش کا خاتمہ ہوسکے اور چیزیں مکمل طور پر کھل کر واضح ہوسکیں۔ پیغام پاکستان نامی اس دستاویز کو فی الوقت دونوں ہاؤسز میں بحث کے لیے اور قانونی پشت پناہی کے لیے پیش کیا گیا ہے جب کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس پر اپنی آرا دی ہیں اور اس کی پشت پناہی کی ہے۔
بدھ، 26 جنوری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post پیغام پاکستان: داعش مذہبی ہم آہنگی پر مشتمل عہد کو ناپسند کیوں کرتی ہے؟ شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.
