وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کو عوام سے ٹیلی فون پر سوال و جواب کے ایک سیشن میں کہا ہے کہ وہ حکومت میں ہونے کی وجہ سے خاموش ہیں لیکن اگر وہ حکومت سے نکلے تو زیادہ خطرناک ہو جائیں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے کون نکال رہا ہے اور ان کو کس سے خطرہ ہے؟ عمران خان کی حکومت کو یا تو اپوزیشن گھر بھجوا سکتی ہے یا اسٹیبلشمنٹ کوئی غیر جمہوری عمل کے ذریعے۔ لیکن اس وقت یہ دونوں خطرات موجود نہیں ہیں۔ نہ ہی اپوزیشن اب تک ان کے خلاف کوئی سنجیدہ تحریک چلا پائی ہے نہ ہی اسٹیبلشمنٹ انہیں اچانک رخصت کروانا چاہتی ہے، تو پھر انہیں خطرہ کس سے ہے؟
اس وقت عمران خان کی حکومت کو اگر کوئی سنگین خطرہ لاحق ہے تو اپنی کارکردگی سے اور سب سے بڑھ کر تحریک انصاف کے ان 22 ممبران قومی اسمبلی سے ہے جو اڑان بھرنے کے لیے سیٹ بیلٹ باندھ چکے ہیں۔ وزیراعظم صاحب ان دونوں خطرات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے میں جتنی دیر کریں گے اتنا ہی وہ دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے۔ عمران خان کتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں؟ یہ سوال تو گذشتہ سال سے اسلام آباد میں گردش کر رہا ہے اور یقیناً جن لوگوں کو اس جواب کی تلاش تھی انہیں خیبر پختونخوا کے مقامی انتخابات کے نتائج کی صورت میں اپنا جواب کافی حد تک مل چکا ہے۔
اس بات کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ عمران خان نے اقتدار سے قبل جو سبز باغ عوام کو دکھائے تھے وہ اسے پورا کرنے میں ناکام رہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، غربت کے خاتمے کی نوید سنائی گئی، قوم کا لوٹا پیسہ واپس لانے، کڑا احتساب کرنے، غریبوں کےلیے گھر کا وعدہ کیا گیا۔ لیکن چار سال ہونے کو ہیں تمام تدابیر الٹی ہوگئی ہیں۔ جو سازش حکومت کے خلاف اپوزیشن کو کرنی چاہیے تھی، حکومت مخالف ماحول بنانے کے لیے اپوزیشن کو جو منصوبہ بندی کرنی چاہیے تھی وہ کام خود حکومت نے اپنے ہاتھوں سے کر ڈالا۔عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ حکومت میں کن کن وزرا کو تبدیل کیا جارہا ہے، وزیراعظم کتنے بجے اٹھتے ہیں، کتنے بجے سوتے ہیں، حکومت اور اپوزیشن میں کیا چل رہا ہے۔ عوام کو تو پٹرول سستا ملنا چاہیے، تین کی وقت کی روٹی ملے، بجلی اور گیس کا بل سستا آئے۔ عوام زندگی آسان چاہتے ہیں لیکن موجودہ دور میں مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا ہے۔ صبح اٹھیں تو گیس نہیں، بجلی نہیں۔ جیب اجازت نہیں دیتی کہ گاڑی میں پٹرول ڈالا جاسکے۔ سی این جی اسٹیشنز پر گیس نہیں۔
مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کو اس چیز کی چنداں فکر نہیں بلکہ اتوار کو ہی عوام سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے ے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر ماننے سے انکار کیا ہے۔ گویا جو شخص عمران خان ہی کی طرح عوام کے ووٹ لے کر قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہؤا اور پھر اپوزیشن ارکان کی اکثریت نے انہیں اپنا لیڈر منتخب کیا، اسے عمران خان محض اپنی سیاسی ضرورت کی وجہ سے ’کریمنل ‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ طریقہ نہ تو کسی بھی مسلمہ جمہوری نظام میں قابل قبول ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی ایسے نظام میں اس کی کوئی گنجائش ہے جسے عمران خان خود ہی ’رول آف لا‘ کا نام دیتے نہیں تھکتے۔ عمران خان خود کو برطانوی نظام کے ماہر گردانتے ہیں اور اس کی خوبیوں و محاسن کے بارے میں لیکچر دے کر پاکستانی عوام کو باور کرواتے رہتے ہیں کہ ہمارا نظام کیوں ناقص اور ناکارہ ہے۔
عمران خان کی یہ گفتگو اقتدار سے چمٹے رہنے کی افسوسناک خواہش کا اظہار ہے۔ وزیر اعظم کو قوموں کی تباہی کی وجوہات بیان کرنے کا بہت شوق ہے۔ تو انہیں جان لینا چاہئے کہ مٹھی بھر لوگوں کی اقتدار و اختیار کی ہوس ہی درحقیقت قوموں کو تباہ کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس گفتگو میں انہوں نے نہ صرف موجودہ مدت پوری کرنے کی بات کی ہے بلکہ یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ان کی پارٹی آئیندہ انتخاب جیت کر مسلسل اقتدار پر قابض رہے گی۔ فارن فنڈنگ کیس کے علاوہ تحریک انصاف کے معاملات کے حوالے سے جو معلومات سامنے آتی رہتی ہیں، ان کی روشنی میں یہ کہنا کوئی غلط بیانی نہیں ہوگی کہ تحریک انصاف دراصل عمران خان ہی کا دوسرا نام ہے۔ وہ جب اپنی پارٹی کی حکومت جاری رہنے کا اعلان کرتے ہیں تو درحققیت وہ اپنی اس ذاتی خواہش کا اظہار کررہے ہوتے ہیں کہ وہ کسی بھی قیمت پر اقتدار چھوڑنا نہیں چاہتے۔
عمران خان اس وقت دباؤ میں ہیں اور یہ دباؤ خراب حکومتی کارکردگی اور مہنگائی سے مزید بڑھتا جائے گا۔ انہیں اس بات کا بھی ادراک ہو چکا ہے کہ جو لوگ انہیں اقتدار میں لے کر آئے وہ شدت سے چاہتے ہیں کہ خان کی ناکامی کا بوجھ ان کے کندھوں سے اب اتر جائے۔اپوزیشن جماعتیں اس بار حکومت کے خلاف تحریک کو آخری راؤنڈ قرار دے رہی ہے۔ پیپلزپارٹی نے فروری میں حکومت کے خلاف مارچ کا اعلان کیا ہے اور پی ڈی ایم نے مارچ میں مہنگائی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ سیاسی حلقوں میں مارچ کا مہینہ اہم قرار دیا جارہا ہے اور حکومت کو بھی یہ اندازہ ہوچکا ہے کہ حکومتی اقدامات سے عوام مطمئن نہیں۔ پارلیمانی راہداریوں میں یہ بحث کی جارہی ہے کہ مارچ تک اگر حکومت کو دباؤ میں لایا گیا تو وزیراعظم عمران خان کو اسمبلیاں توڑنے کےلیے مجبور کیا جاسکتا ہے۔
عمران خان کو اقتدار سنبھالے ساڑھے تین سال ہوچکے ہیں۔ اب بھی وہ اپنی ناکامیوں کا الزام سابق حکمرانوں یا عالمی عوامل کو قرار دے کر خود اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونا چاہتے ہیں۔ یہ طریقہ ذمہ داری سے گریز کی بدترین مثال ہے۔ وزیر اعظم کی اس بات پر کون اعتبار کرے گا کہ وہ ملک میں مہنگائی کی صورت حال کی وجہ سے رات بھر سو نہیں سکتے لیکن اسی سانس میں امریکہ ، برطانیہ اور یورپ میں قیمتوں کی مثالیں دے کر پاکستان کو جنت نظیر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بدھ، 26 جنوری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post نرگسیت کا شکار وزیر اعظم appeared first on شفقنا اردو نیوز.
