ججز کی ‘اسکینڈلائزیشن’ اور بڑی تعداد میں زیر التوا مقدمات عدلیہ کو درپیش بڑے مسائل قرار دیتے ہوئے نامزد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس گلزار احمد کے بعد سپریم کورٹ کے امور چلانے کے لیے اپنا روڈ میپ پیش کیا۔
انہوں نے جسٹس گلزار احمد کے دور میں اعلیٰ عدلیہ کو درپیش مشکلات پر تفصیلی بات کی اور ججز کے فیصلوں پر تنقید کے بجائے ججز کو نشانہ بنانے پر مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
سابق چیف جسٹس کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘قانونی معاملات میں ججز کی آرا میں اختلاف ہمارے انفرادی تصورات سے پیدا ہوتا ہے اور یہ تنوع ہماری سمجھ میں بہتری لاتا ہے’۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے تفصیلی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘اس طرح گزشتہ روز اقلیتی نظریہ اکثریت کا فیصلہ بھی بن سکتا ہے’۔
فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ججز اپنی اصلاح کرتے ہیں اسی لیے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں اقلیت اکثریت میں بدلی، عدالتی فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا پر طوفان مچایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ججز کے خلاف ذاتی تنقید کی جا رہی ہے بار ججز پر تنقید کے خلاف کردار ادا کرے اس سے پہلے کہ عدالت نوٹس لے۔
انہوں نے اس طرح کے طرز عمل کو ‘غیر پیشہ ورانہ اور غیر مہذب ہونے کے علاوہ غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ کچھ کرنا چاہیے تھا، ساتھ ہی عدلیہ کے اس معاملے میں داخل ہونے سے پہلے بار کی معاونت بھی طلب کی۔
فل کورٹ ریفرنس عدالت کے کمرہ نمبر ایک میں منعقد ہوا جس میں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس کے اہلِ خانہ، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، پاکستان بار کونسل کے نائب صدر حفیظ الرحمٰن چوہدری اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون سمیت دیگر نے شرکت کی۔
عالمی وبا کورونا وائرس کے خطرناک پھیلاؤ کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس نے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایس او پیر وضع کر کے عدالت کے دروازے قانونی چارہ جوئی کے لیے کھلے رکھ کر اس چیلنج پر قابو پالیا تھا۔
انہوں نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس عیسیٰ کی دائر درخواست کی جانب بھی اشارہ کیا، جس کی 10 ججز نے 17 ماہ تک سماعت کی اور 26 اپریل 2021 کو ختم ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیس تقریباً 60 سماعتوں پر محیط تھا اور ایسے دنوں میں بڑے بینچ کی سنوائی کے لیے باقاعدہ کاز لسٹ کو کم کرنا پڑتا تھا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس عرصے کے دوران کیسز کا بوجھ دسمبر 2019 کے تقریباً 42,000 کیسز سے بڑھ کر اپریل 2021 میں تقریباً 50,000 کیسز تک پہنچ گیا تاہم عدالت نے سخت محنت کی اور صحت کے خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے بعض اوقات طویل وقت تک کام کیا۔
کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کے تدارک کے لیے عدالت عظمیٰ سمیت تمام عدالتوں کے پرفارمنس آڈٹ کا خیال پیش کرتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے وکلا برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ تحریری بریف، جامع بیانات اور وکیل کی طرف سے دلائل پر زیادہ انحصار کو یقینی بنا کر سماعت ملتوی کرنے کے کلچر کو ختم کرکے عدالت کا وقت بچانے میں مدد کریں۔

