فی الوقت بھارتی عوام جن حالات سے دوچارہیں وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ بھارت کی فضا دن بدن گرد آلود ہوتی جارہی ہے۔ ہر سمت ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔ بالخصوص مسلمانوں سے بد سلوکی معمول بن گیا ہے۔ انگریزوں کے چنگل سے آزادی تو مل گئی لیکن ظلم و تشدد کے پنجے میں اب بھی جکڑے ہوئے ہیں۔ آئے دن قتل وخونریزی، ظلم وستم اور عفریت و جارحیت کے دلخراش وجگرپاش واقعات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔
بھارتی حکمران ملک کے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی باگ دوڑ براہ راست عوام کے ہاتھوں میں ہے، کیوں کہ جمہوریت کی تعریف ہی یہی ہے۔ جمہوری ملک میں شہریوں کومختلف قسم کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ مثلا، اظہار رائے کی آزادی، اپنے مذاہب کے مطابق عبادات کرنے کا حق، تعلم و تعلیم کاحق، ووٹ ڈالنے کا حق، اپنےمذاہب کے مطابق شادی بیاہ کرنے کا حق اور اس کے علاوہ بہت سے حقوق جمہوری ملک کا آئین عطا کرتا ہے۔ یہی آئین جمہوری طرز حکومت کو آمریت سے ممتاز کرتا ہے۔ اسی جمہوریت کی ترویج اور برطانوی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے مسلمانوں نے اپنی جانوں کی بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں۔ یوں تو انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے تمام مذاہب کے لوگوں نے حصہ لیا، لیکن علماکی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، جنہوں نے اپنے خون سے آزادی کا پرچم لہرایا لیکن افسوس صدافسوس کہ آج اسی جمہوریت میں خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں۔ ہرچہار جانب حقوق عامہ کااستحصال کیا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں انتہائی تیز رفتاری سے نفرتوں کا بیج بویا جارہا ہے۔ مذہب وملت اور ذات پات کے نام پرعوام کے مابین جنگ وجدال کے شعلے بھڑکتے جارہے ہیں۔ ہندومسلم کے نام پر امتیازی برتاؤ برتا جارہا ہے۔ انسانی جان کو جانوروں سے تصور کیا جارہا ہے۔ محض گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں پر تشدد کےپہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت اور اس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں ملک کا امن وامان خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہاہے۔ نامور لیڈرز خود دنگا فساد پھیلانے کے مواقع ڈھونڈ رہے ہیں۔ مسلمانوں پر زمین تنگ سے تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کی مذہبی آزادی چھینی جارہی ہے۔ مساجد شہید کی جارہی ہیں۔ اذان پہ پابندی لگائی جارہی ہے۔ اس پوری نفرت اور دہشت گردی کے پیچھے انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس ہے،جو خود کو قوم پرست تنظیم قرار دیتی ہے، لیکن یہ بھی دیکھا گیا کہ کئی دہشت گرد معاملوں اور فرقہ وارانہ فسادات میں اس تنظیم کا ہاتھ رہا ہے۔ بھارت میں دنگے فسادات برپا کرنے میں اس تنظیم کا اہم کردار رہا ہے۔یہ تنظیم بھارت کو ہندو ملک گردانتی ہے اور یہی اس تنظیم کا اہم مقصد بھی ہے۔ اس کے ہم خیال سنگھ پریوار، وشوہندوپریشد، بھارتیہ جنتا پارٹی وغیرہ کے مقاصد بھی بھارت کو ہندوراشٹریہ بنانا ہے۔ یہاں تک کہ خود مودی سرکار ہندوتوا پالیسی پر گامزن ہے، جس کے نتیجے میں تمام اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو کھلے عام نشانہ بنا کر ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔
مودی سرکار ملک کو ہندوراشٹر بنانے کی تابڑ توڑ کوشش کررہی ہے۔ جگہ جگہ دنگے فساد بپاکیے جارہے ہیں۔ ارباب اقتدار کو اس کی کوئی فکر لاحق نہیں۔ ملک کے حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ ملک کا کسان پریشان ہے، سرمایہ داروں کو خوش کرنے اور ان کے قارونی خزانے پروان چڑھانے کے لیے نت نئے متنازع قوانین لائے جارہے ہیں۔ کبھی تو این آر سی کا قانون لاکر عوام کو پریشان کیا گیا تو کبھی کسانوں سے متعلق قانون لاکر ان کے قرار کو بے قراری میں بدلا گیا۔ نتائج یہ ہیں کہ پورا ملک درد والم میں کراہ رہا ہے، لیکن حکومت کو اس کی کوئی پروا نہیں۔
ہیومن فریڈم انڈیکس 2020ء کے مطابق بھارت میں جمہوریت اور آزادی کا درجہ 2020ء میں 94سے گرکر 111ہوگیا ہے۔ 2021ء میں ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس نے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بھارت کو 180ءممالک میں 142ویں درجے پر رکھا ہے۔ فرانسیسی اسکالر کرسٹوف جعفر لوٹ نے اپنی حالیہ کتاب ’’مودی انڈیا: ہندونیشنلزم اینڈ رائز آف اتھنک ڈیمو کریسی‘‘ میں نسلی جمہوریت کی پیش گوئی کی ہے۔ جہاں جمہوری حقوق چند نسلی گروہوں تک محدود ہوں گے اور اقلیتوں کو دوسرے درجے کے شہریوں کو بطورِ زندگی گزارنی ہوگی۔ بقول مصنف انتہا پسندی اس حد تک پہنچ جائے گی، جہاں سے لوٹنا ناممکن ہوگا۔ موجودہ تناظر ميں جعفر لوٹ کی پیش گوئی سچ ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ احتجاج اور اختلاف کی گنجائش کم ہوتی جارہی ہے۔ یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر ملک سے غداری کا الزام تھوپا جارہا ہے اور انہیں جیلوں میں قید کیا جا رہا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پر امن احتجاج کرنے والوں کے ساتھ جبروتشدد کا معاملہ برتا گیا اور انہیں ملک کا دشمن قرار دیا گیا۔
اسی طرح بھارت کے مشہور دانشور پرتاب بھانو مہتا نے 2019ء ہی میں پیش گوئی کردی تھی کہ اگر 2019ء کے عام انتخابات کے بعد نئی حکومت میں توازن نہیں ہوگاتو بھارتی جمہوریت خطرے میں آجائے گی۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگر یہ 5 برس میں بننے والی ثقافت جارہی تو آپ اپنی آزادی، صداقت، اپنے مذہب اور یہاں تک کہ اپنے ملک کو واپس نہیں لے پائیں گے۔اقتدار کی طاقت کے لیے مذہب کا استعمال ہورہاہے۔
بھارت جیسے بڑی آبادی والے ملک میں جاری نفرت کی سیاست اور تعصب کی پالیسی کے نتائج جتنے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، مودی سرکار کو اس کا اندازہ نہیں اور نہ ہی خود بھارت ایسے نتائج کا متحمل ہو سکتا ہے۔

