لاہور:جمعیت علماءپاکستان کے زیر اہتمام بھارت کے شہر کرناٹک میں ہندو غنڈوں اور انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمان طالبہ کے حجاب پہننے پر نہتی طالبہ مسکان خان کو ہراساں کرنے اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جذبات کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔
جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر،علامہ قاری زوّار بہادر، ڈاکٹر جاوید اعوان، علامہ نصیر احمد نورانی سمیت دیگر قائدین اور ملک بھر کے علماء و خطباء نے اپنے خطبات جمعتہ المبارک میں بھارتی غنڈوں کی شرانگیزی کے خلاف بھرپور احتجاج اورمسلمان طالبہ کی حمایت میں خطابات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب پہن کر کالج جانے والی مسکان کو حراساں کرنے اورکالج انتظامیہ کی جانب سے تعلیم یا حجاب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے مطالبہ نے بھارت کے اسلام دشمن عزائم کوبے نقاب کردیا ہے۔
قائدین کا کہنا تھا کہ بھارت میں انتہاءپسندی اور مسلم دشمنی تمام حدود پارکرچکی ہے ہندوستان میں مسلمانوں سے جینے کا حق چھینا جارہا ہے ان پر عرصہ حیات تنگ کردیاگیا مسلمانوں کا قتل عام روز کا معمول بن چکا ہے،مسلمانوں کی املاک کو نذر آتش کیا جارہا ہے خواتین کی عزتیں تار تار کی جارہی ہیں اور مودی حکومت انتہاءپسندوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جس کا اقوام متحدہ،سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کمیشن کو فوری ایکشن لینا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کالج کی طالبہ مسکان نے حجاب کی حرمت کو بچا کرثابت کردیا ہے کہ ظلم اور بربریت کے باوجود مسلمان خواتین حرمت اسلام کے تحفظ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی جب بھی اسلام کی حرمت کو چلینج کیا جائیگا مسلم بیٹیاں اس کے تحفظ کیلئے جراتمندانہ کردارادا کرتی رہیں گی۔
جمعیت علماء پاکستان کے تحت ملک کے مختلف شہروں اور اضلاع میں کئے گئے احتجاجی اجتماعات سے سید محمد صفدر شاہ گیلانی، حافظ نصیر احمد نورانی، مفتی تصدق حسین، مولانا محمد سلیم اعوان، رشید احمد رضوی، مفتی جمیل رضوی، مولانا نعیم جاوید نوری، قاری لیاقت رضوی، حافظ مستنصر نورانی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطابات کئے ۔

