اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حالات خراب ہوئے تو امریکا کو مشکلات ہوں گی۔
سابق سفارت کاروں اور سینئر صحافیوں سے چین کے حالیہ دورے پر خصوصی بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا کا نقشہ تیزی سے بدلتا جارہا ہے، چین کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا، افغانستان پر چین اور پاکستان میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر صرف امریکا کی رائے مختلف ہے، امریکا اپنی اندرونی مجبوریوں کی وجہ سے پھنسا ہوا ہے، امریکی خارجہ پالیسی کی بھی کچھ مجبوریاں ہیں، افغانستان پر صرف امریکا کی رائے مختلف ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ہمارے چین سے تعلقات موجودہ دور کے بعد زیادہ مضبوط ہوئے، چین کے صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہوگیا، چینی صدر کا دورہ ملتوی ہونے سے کچھ چیزیں طے ہونے سے رہ گئیں، 2 سال بعد چین کے صدر سے ملاقات ہوئی، چین میں اوپر سے کوئی سگنل آتا ہے تو فوری اس کے اثرات آتے ہیں، کورونا پابندیوں پر وہاں پر بہت زیادہ سختی تھی، چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی جڑیں مضبوط ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے دورہ روس پر مسجد میں ایک پروگرام رکھا گیا ہے، صدر پیوٹن سے میری ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی، صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس میں کوئی اسلاموفوبیا نہیں، صدر پیوٹن سے 2 سال پہلے طویل ملاقات ہوئی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا کا بہترین حکمت عملی سے مقابلہ کیا، لاک ڈاؤن سے کورونا کیسز میں 2 فیصد فرق پڑا لیکن دنیا کی معیشتیں متاثر ہوگئیں، لاک ڈاؤن سے پوری دنیا کی معیشت تباہ ہوگئی، کہا گیا اگر کورونا سے اموات ہوئیں تو ایف آئی آر عمران خان کے خلاف ہوگی، کورونا کے دوران لاک ڈاؤن نہ کرنے پر بہت تنقید ہوئی، کورونا میں سب پریشان ہوگئے اور لاک ڈاؤن کے لیے دباؤ ڈالنے لگے۔
عمران خان نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں اور وفاق میں تقسیم ہوگئے، 18 ویں ترمیم کے بعد بہت سے مسائل سامنے آئے، سندھ اور پنجاب میں گندم کی الگ الگ قیمتیں ہیں، ملک میں اشیا کی قیمتیں یکساں ہونی چاہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم قومی اسمبلی سے بل پاس کراتے ہیں تو سینیٹ میں پھنس جاتے ہیں، جمہوریت میں دو تہائی اکثریت نہ ہو تو اصلاحات کرنے میں مشکل ہوتی ہے، ہماری اسٹریٹجک سمت بالکل واضح ہے، ہماری معیشت کی سمت درست، چینی قیادت نے اعتماد کا اظہار کیا۔

