ویب ڈیسک —
امریکہ میں تجزیہ کار پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو بےحد باریک بینی سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض کےخیال میں پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے اقتصادی معاہدے اشارہ دے رہے ہیں کہ خطّے کے ملکوں کے درمیان نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں، جن کے اثرات پڑوسی جنوبی ایشیائی ملکوں، امریکہ اور خود پاکستان پر پڑ سکتے ہیں۔؎
چند تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سرمائی اولمپکس کے دوران پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا دورہ چین اور چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دیگر اعلیٰ سطحی عہدیداروں سے ملاقاتیں چین کے ساتھ یک جہتی کا اظہار تو تھیں۔۔مگر دورے کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر ہوئی، جب امریکہ نے چین میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کا سفارتی بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ یہ بائیکاٹ چین میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات کی وجہ سے کیا گیا، جن کی چین تردید کرتا آیا ہے۔
واشنگٹن کے بروکنگز انسٹی ٹیوشن میں خارجہ پالیسی کی فیلو مدیحہ افضل کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں عمران خان کے دورے کا مقصد وہی تھا، جو نظر آرہا ہے، یعنی امریکہ کی جانب سے چین کے سفارتی بائیکاٹ کے دوران پاکستان کی جانب سے چین کی حمایت کا اظہار۔
چین دوست یا اتحادی نہیں بناتا, ملکوں کو اپنا قرض دار بناتا ہے: اپرنا پانڈے
پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کا آغاز 1951 سے ہوا اور پھر وقت کے ساتھ اس تعلق میں مزید گہرائی آتی گئی۔بھارت کے ساتھ دونوں ملکوں کے تعلقات کسی نہ کسی معاملے پر پیچیدگی کا شکار رہے۔ بھارت پاکستان کا دیرینہ حریف تھا اور چین کے تعلقات بھی بھارت کے ساتھ زیادہ خوشگوار نہیں رہے۔ دونوں ملکوں کی بھارت کے ساتھ جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ ایسے میں بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان اپنے مشترکہ حریف کے مقابلے میں ایک صفحے پر ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہونی چاہیئے۔
پاکستان اور چین کے درمیان پہلا تجارتی معاہدہ 1963 میں ہوا اور پھر 2013 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری یا سی پیک کی بنیاد پڑی۔ یہ چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے کا ایک حصّہ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات محض سی پیک تک ہی محدود نہیں، چین اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ قرض دینے والا ملک ہے۔ پاکستان کے کل قرض کا 27 فی صد سے زیادہ قرض چین کا ہے۔
واشنگٹن کے تھنک ٹینک ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کی ریسرچ فیلو اپرنا پانڈے نے وی اے او سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین دوست یا اتحادی نہیں بناتا بلکہ ملکوں کو اپنا قرض دار بناتا ہے۔
چین سے گہری ہوتی قربتوں کی وجہ پاکستان کے معاشی حالات ہیں؟
پاکستان اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ عالمی وبا کی وجہ سے بیروز گاری اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے، کل قومی پیداوار گھٹ رہی ہے اور افراط زر میں اضافہ ہوا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی انحطاط پذیر معیشت کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں معقول اقتصادی اصلاحات نہیں کی جا رہی ہیں۔ اپرنا پانڈےکے خیال میں پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کی معیشت مناسب انداز میں ترقی نہیں کر رہی اور اس کے زر مبادلہ کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں۔
بھارت کے آن لائین پورٹل "دی پرنٹ” میں تارا کارتھا لکھتی ہیں کہ پاکستان چین سے قرضے لے کر سود ادا کرتا ہے اور عالمی مالیاتی فنڈ سے مدد کا طالب رہتا ہے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی فیلو مدیحہ افضل کا خیال ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہےکہ پاکستانی معیشت کے لیے چین کا قرضہ فائدہ مند ہوگا یا نہیں، اس کا بہت انحصار قرضوں کی شرائط پر ہے۔
چین سے تعلقات پاکستان کے امریکہ سے تعلقات پر کتنے اثر انداز ہونگے؟
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علامتی طور پر پاک چین مشترکہ اعلامیے سے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اتحاد کی تصدیق ہوتی ہے۔ تاہم اس سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔تجزیہ نگار مدیحہ افضل کہتی ہیں کہ تعلقات میں کھینچاؤ تو ہے، مگر ایسا نہیں کہ ان میں بہتری نہ لائی جا سکے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اپنی دو فروری کی نیوز بریفینگ میں کہا تھا کہ ہم یہ بات ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ پوری دنیا میں یہ کسی ملک کے لیے لازم نہیں ہے کہ وہ امریکہ اور چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔
وی اے او نے پاکستانی سفارت خانے سے پاک چین تعلقات کے بارے میں سوال کیا تو سفارت خانے نے پاکستان چین مشترکہ اعلامیے کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس میں دونوں ملکوں کے درمیان گہرے اقتصادی رشتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ وی اے او نے اس بارے میں چین کے سفارت خانے سے بھی رابطہ کیا، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں موصول نہیں ہوا ۔
بھارت کو کیا خدشات ہیں؟
واشنگٹن کے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کی تجزیہ نگار اپرنا پانڈے کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین مشترکہ اعلامیہ بھارت کے خدشات کی توثیق کرتا ہے جو اسے اپنے دو حریفوں کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے تعلقات کی وجہ سے لاحق ہورہے ہیں۔ اپرنا پانڈے کے بقول بھارت سمجھتا ہے کہ چین اس کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لئے پاکستان کو استعمال کرتا رہے گا۔
وزیر اعظم پاکستان کا چینی صحافیوں کو انٹرویو
دوسری طرٖ ف پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے زیر اہتمام شائع ہونے والے روزنامہ گلوبل ٹائمز کےصحافیوں کو ایک انٹرویو میں بھارت کا کوئی ذکر نہیں کیا ، لیکن یہ دوہرایا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات اور دوستی ہمالیہ سے بلند ہے۔انہوں نے کہا کہ چین وہ ملک تھا، جس نے پاکستان کو قراقرم ہائی وے بنانے میں مدد فراہم کی۔ اس انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی راہداری منصوبے کے اگلے مرحلے پر پیش رفت کا منتظر ہے، جس کے تحت چین پاکستان کے ساتھ صنعتی، زرعی اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کرے گا ۔ انہوں نے سا ل دو ہزار بائیس کے دوران سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز کے قیام، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات کے شعبے میں چین سے تعاون بڑھنے کی توقع کا اظہاربھی کیا۔
