لاہور/ اسلام آباد (صباح نیوز) تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر جہانگیر ترین گروپ نے اجلاس میں جہانگیر ترین کو حتمی فیصلے کا اختیار دیدیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ارکان نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ کھل کر حکومت مخالف لائحہ عمل اختیار کیا جائے ۔ ارکان نے مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑے ہونے کی تجویز دی ۔ جھنگ سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے اجلاس میں آزاد حیثیت برقرار رکھنے کا مشورہ دیا۔ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے تک ترین گروپ سیاسی کارڈ سینے سے لگائے رکھے گا۔ عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے پر ترین گروپ اپوزیشن کا ساتھ دے سکتا ہے۔ ترین گروپ کا اجلاس میں کہنا تھا کہ حلقوں میں تحریک انصاف کی پوزیشن بہت کمزور ہے‘ بلدیاتی انتخابات میں مضبوط شخصیات پی ٹی آئی کے ٹکٹ کو لینا پسند نہیں کریں گی۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی، حلقوں میں سخت عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ارکان کا اس بات پر اتفاق تھا کہ اب ترین گروپ کو متحرک کردار ادا کرنا ہوگا، ترین گروپ کے اجلاس وقفے وقفے سے ہوتے رہیں گے، سیاسی جماعتوں کی جانب سے رابطوں کی حوصلہ شکنی نہیں کی جائے گی۔قبل ازیں جہانگیر ترین نے تحریک عدم اعتماد پر بات کرنے کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان سے تحریک انصاف سمیت اپوزیشن نے بھی رابطہ کیا ہے‘ سیاسی حالات گرم ہیں۔ علاوہ ازیں اِن ہائوس تبدیلی کے لیے اپوزیشن کے حکومتی اتحادیوں سے بیک ڈور رابطے شروع ہو گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مہنگائی کے مارے عوام کو ریلیف دلانے کا ایشو اپوزیشن کا بڑا ہتھیار بن گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ سندھ سے جے یو آئی کے اہم رہنما نے حکومتی اتحادی جی ڈی اے سے رابطہ کیا ہے۔ جی ڈی اے کی قیادت کو مولانا فضل الرحمن کا خصوصی پیغام پہنچا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق (ن) لیگ کے سردار ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق نے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی سے رابطہ کیا ہے۔ بلوچستان سے محمود خان اچکزئی اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں میں رابطے ہوئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے بلوچستان عوامی پارٹی کو ان ہائوس تبدیلی میں ساتھ دینے کی درخواست کی ہے۔ باپ نے مشاورت کے لیے اپوزیشن سے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا ہے۔
