کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) آن لائن گیمز خاموش قاتل ہیں‘ نیند کی کمی، موٹاپے‘ قتل اور خودکشی میںاضافے کا سبب بن رہے ہیں ‘ ذہن ناکارہ ہو سکتاہے‘چھوٹی سی اسکرین نے بچو ں کو اپنے ارد گرد کی دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا ہے‘نوجوان حقیقت اور خیالی دنیا میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں‘بچہ ہروقت غصے میں رہتاہے‘پاکستان میںپرتشدد گیمز پر فوری پابندی لگنی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ پنجاب ڈپارٹمنٹ آف ڈیولپمنٹ کمیونی کشن کی چیئرپرسن و ایسوسی ایٹ پروفیسر اور امریکا سے شعبہ ابلاغیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون ریسریچر پروفیسر ڈاکٹر عائشہ اشفاق، ویمن لائرز ایسوسی ایشن کی سی ای او اور ہائی کورٹ کی سینئر قانون دان بیرسٹر زہرہ سحر ویانی، پاکستان کے مقبول ترین موٹیویشنل اسپیکر، ٹرینر، استاد اور مختلف کتابوں کے مصنف ڈاکٹر محمد عارف صدیقی اور پا کستان ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سوسائٹی کے بانی چیئرمین ڈاکٹر ابو بکر میمن نے جسارت کے اس سوال کے جواب میںکیاکہ ’’کیا آن لائن گیمز سے بچوں پر منفی اثرات ہو رہے ہیں؟‘‘ ڈاکٹر عائشہ اشفاق نے کہا کہ موجودہ حالات میں جہاں کورونا وبا کے باعث لوگ گھروں میں زیادہ وقت گزار رہے ہیں‘ وہیں بچوں میں آن لائن وڈیو گیمز کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے‘ آن لائن گیمزکا بے پناہ شوق اور اس کے منفی اثرات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں‘ یہ مسئلہ مشرق، مغرب بلکہ پوری دنیا میں یکساں ہے‘ بچوں میں بڑھتی ہوئی آن لائن گیمز کی طلب ان کی زندگی کے تمام پہلوئوں میں نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے‘ آن لائن گیمز انسانی شخصیت کو تبدیل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہیں‘ جہاں یہ گیمز ذہن کو تیز اور چست بنا سکتے ہیں، وہیں ذہن کو ناکارہ بھی کر سکتی ہیں‘ آن لائن ویڈیو گیمز کے بچوں کی ذہنی نشوونما پر اثرات کے حوالے سے ایک تحقیق کے مطابق حد سے زیادہ آن لائن گیمز کھیلنے والے بچوں کے دماغ میں عجب سی کش مکش پیدا ہوتی ہے‘ ان کے ذہنوں میں احساس محرومی اور انتقام لینے کی خواہشات بھی دوسرے بچوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ جو بچے روزانہ ایک گھنٹے سے کم وڈیو گیمز کھیلتے ہیں وہ دیگر بچوں کی نسبت معاشرے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں لیکن جو بچے روزانہ 5 گھنٹے سے زیادہ وڈیو گیمز کھیلتے ہیں وہ مجموعی طور پر اپنی زندگی سے کم مطمئن ہوتے ہیں‘ آن لائن گیمز کا بے جا استعمال بچوں میں کلائی، گردن اور کہنی میں درد، نیند کی کمی اور خرابی، موٹاپا، کمزوری یا ہاتھوں میں بے حسی کا باعث بن رہا ہے۔ آن لائن گیمز کی بے ہنگم عادت ذہن کو کافی حد تک بھی خراب کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں میں آن لائن اور ویڈیو گیمز کی بڑھتی ہوئی عادت کو ختم کرنے کا حل یہ نہیں کہ گیم پر پابندی لگا دی جائے‘ جس کے باعث ٹیکنالوجی میں ہم پیچھے رہ جائیں اور بچوں کی انٹرٹینمنٹ ختم ہو جائے۔اس کا حل ٹھوس پلاننگ میں چھپا ہے،اسی طرح بچوں کو گیمز کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے والدین پر سب سے زیادہ ذمے داری عاید ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ سب سے پہلے تو بچوں کی گیمز کا ٹائم ٹیبل بنائیں جس میں گیمز کے اوقات کو بتدریج محدود کیا جانا چاہیے۔ بیرسٹر زہرہ سحر ویانی نے کہا کہ بچے حقیقی دنیا میں اتنا وقت نہیں گزارتے جتنا ڈیجیٹل ورلڈ میںگراتے ہیں۔ ان کی کائنات اسمارٹ فون، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر جیسی ڈیوائسز تک سِمٹ کر رہ گئی ہے‘ یہ وڈیو گیمز، کارٹونز اور دوسرا آن لائن مواد دیکھنے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر اپنے والدین سے زیادہ دسترس رکھتے ہیں‘ آج ترقی یافتہ ممالک میں ہر 3 میں سے ایک بچہ بات چیت کے قابل ہونے سے قبل ہی اسمارٹ فون کے استعمال سے واقفیت حاصل کر لیتا ہے اور بچوں کی یہ عادت ان کے رویوں، رشتوں، سماجی و ثقافتی بندھنوں اور تعلیم پر اثر انداز ہو رہی ہے‘ اس صورتِ حال میں بچوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت پہلے سے کئی گُنا بڑھ گئی ہے کہ ڈیجیٹل ورلڈ کے علاوہ بھی ایک دنیا ہے۔ انسانی احساسات و جذبات کی دنیا اور انسانوں سے روابط بے جان آلات میں مگن رہنے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں‘ آج دنیا بھر میں ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال کی عادت وبا کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور اس کے منفی نتائج بھی سامنے آنے لگے ہیں، جن میں بچوں کی تعمیری و تخلیقی صلاحیتوں کی تباہی و پامالی قابلِ ذکر ہے۔ عدم آگہی یا غفلت کی وجہ سے پاکستان میں یہ رجحان آئے دن تقویّت حاصل کر رہا ہے‘ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ نئی پَود کا دماغ گزشتہ نسلوں سے قطعاً مختلف ہے اور ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے والدین اور بہن بھائیوں سے لاتعلق ہیں‘ انہیں کھانے پینے کی کوئی فکر ہوتی ہے، نہ پڑھائی کی اور نہ ہی خاندانی تقریبات میں شرکت سے کوئی سروکار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر محمد عارف صدیقی نے کہا کہ عام طور پر والدین آن لائن وڈیو گیمز کو اپنے بچوں کی ذہنی نشوونما کا دشمن سمجھتے ہیں لیکن جدید تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ وڈیو گیمز سے بچوں میں پڑھنے کی صلاحیت بہتر ہونے کے علاوہ ریاضی اور سائنس میں بھی ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے‘ نئی تحقیق کے مطابق بچوں میں روزانہ وڈیو گیمز کھیلنے سے ان کی قوت فیصلہ اور حافظے پر اچھے اثرات پڑتے ہیں جو تعلیم کے میدان میں ان کی مدد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مکمل اور کامیاب شخصیت بنانے کے لیے جسمانی، ذہنی، روحانی، نفسیاتی، معاشرتی اور جذبا تی عوامل کا ہونا بہت ضروری ہے‘ ان تمام عوامل میں اگر توازن ہو تو وہ شخصیت خاص بن کر دل میں گھر کر جاتی ہے‘ وڈیو گیم انسانی دما غ کو تبدیل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیجہاں زمانہ ٹی وی، کمپیوٹر سے آگے بڑھ کے موبائل اور لیپ ٹاپ تک آگیا ہے، وہیں فرصت کے اوقات گزارنے کے لیے تفریح کے نت نئے اور نرالے طریقے بھی متعارف ہوئے ہیں جن میں سے آن لائن ویڈیو گیمز بھی شامل ہیں‘ بہت سے ایسے وڈیو گیمز دستیاب ہیں جو مختلف منفی سوچوں اور الجھنوں پر قابو پانے میں مدگار اور تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کرتے ہیں‘ مختلف نوعیت کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونا آتا ہے۔ تخلیقی صلاحیتیں عیاں ہو تی ہیں‘ صحیح اور غلط کا فرق، جس سے بچہ منفی خیالات پر قابو پانا سیکھتا ہے‘ ساتھ ہی مقررہ وقت میں ٹاسک مکمل کرنے سے وقت کی قیمت کا اندازہ ہوتا ہے،اسی طرح آن لائن گیمز کے منفی اثرات پر بات کی جائے تو ان کا حد سے زیادہ شوق بعض اوقات بچوں کی ذہنی نشوونما پر منفی اثر بھی ڈالتا ہے‘ بہت سے وڈیو گیمز میں اشتعال انگیزی، غصے اور مار دھاڑ کو بے حد فروغ دیا جاتا ہے جس سے بچوں کا ذہن مشتعل رہتا ہے اور ان کو غصہ زیادہ آنے لگتا ہے‘ بچے حقیقت اور خیالی دنیا میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں‘ ان کا ذہن ایک فرضی دنیا کے بارے میں سوچتا رہتا ہے اور سماجی تعلقات سے فرار اختیار کرتا ہے‘ کچھ وڈیو گیمز بچوں کو غلط سماجی اقدار کا سبق دیتے ہیں‘ بچے اپنی روز مرہ ذمہ داریوں سے فرار چاہتے ہیں جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی پر بھی اثر پڑتا ہے‘ یہ والدین کی ذمے داری ہے کہ وہ ایک گھنٹے سے زیادہ بچوں کو وڈیو گیمز کھیلنے نہ دیں ۔ڈاکٹر ابو بکر میمن نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں نت نئی ایجادات کا استعمال بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے اور کمپیوٹر گیمز بھی ذہنی تربیت میں معاون ہیں مگر اس کا غیر ضروری استعمال بچوں میں انتہائی مہلک اور منفی اثرات مرتب کرتا ہے،جدید دور میں بنائے جانے والے گیمز بچوں اور نوجوانوں میں جارحیت پیدا کر رہے ہیں‘ بعض وڈیو گیمز کمپنیاں اپنے گیمز کو حقیقت سے قریب تر دکھانے اور اس میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کچھ ایسے عنصر شامل کر رہی ہیں جن میں ماردھاڑ، تشدد اور خون خرابہ ، جزوی یا مکمل عریانیت اور جنسی تشدد کے مجرمانہ کردار شامل ہیں جو بچوں اور نوجوانوں میں نشہ اور جارحیت جیسے مسائل پیدا کرنے کی اہم وجوہات ہیں۔ پب جی گیم سے قبل بھی کچھ آن لائن گیمز ایسے آچکے ہیں، جن کو کھیلتے ہوئے دنیا بھر میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئی ہیں‘ پاکستان میں بچوں اور نوجوان نسل کی زندگیوں کو بچانے کے لیے ایسے خطرناک آن لائن گیمز پر فوری پابندی لگنی چاہیے۔
