بھارت میں ہندو انتہا پسندی عروج پر ہے، ایک خاتون لیکچرار نے حجاب اتارنے کے بجائے اپنی نوکری سے استعفیٰ دے دیا۔
ریاست کرناٹک میں ایک کالج میں مسلم خاتون لیکچرار کو انتظامیہ نے حجاب کے بغیر کلاس لینے کا حکم دیا جس پر باحجاب خاتون نے حکم ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی نوکری کی قربانی دے دی۔
خاتون لیکچرار نے کالج پر نسپل کو اپنے استفعیٰ میں لکھا کہ حجاب اتارنے کے حکم سے میری عزت نفس مجروح ہوئی، پچھلے 3 سال سے حجاب کر کے کالج آ رہی ہوں۔
#WATCH | K’taka: Argument b/w parents a teacher outside Rotary School in Mandya as she asked students to take off hijab before entering campus
A parent says,”Requesting to allow students in classroom, hijab can be taken off after that but they’re not allowing entry with hijab” pic.twitter.com/0VS57tpAw0
— ANI (@ANI) February 14, 2022
انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی کا حق آئین دیتا ہے جسے کوئی نہیں چھین سکتا، حجاب پر پابندی کے غیر جمہوری اقدام کی مذمت کرتی ہوں۔
خیال رہے کہ کرناٹک حکومت نے ریاست میں تمام تعلیمی اداروں میں مسلمان طالبات کے حجاب کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جب کہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ میں ہے۔
