جڑانوالہ: پاکستان میں 90 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر کیلے کی کاشت کی جاتی ہے جبکہ پھل حاصل کرنے کے بعد کیلے کے تنے کو جلا کر یا کاٹ کر ضائع کردیا جاتا ہے جو ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتا ہے۔
لیکن اب کیلے کے درخت کی باقیات سے دھاگا بنا کر اسے کام میں لایا جاسکے گا۔ زرعی یونیورسٹی کے سائنٹسٹ ڈاکٹر اسد فاروق نے کیلے کے تنے سے دھاگا نکالنے کیلئے خاص مشین تیار کی ہے۔ کیلے کے تنے سے تمام سطحوں کو علیحدہ کرلیا جاتا ہے جس کے بعد مشین میں پراسیسنگ کے بعد کیلے کے تنے سے دھاگا تیار کیا جاتا ہے۔
چیئرمین فائبر اینڈ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر اسد فاروق کہتے ہیں کہ کیلے کے تنے کے ریشوں کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا دھاگا پٹ سن کی بوری کے متبادل کے طور پر بیگ بنانے کیلئے کارآمد ہوگا۔ جبکہ صنعتی پیمانے پر کیلے کے تنے سے بنے دھاگے کی بوریاں بنا کر پٹ سن کی کروڑوں روپے کی درآمد سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے گا۔
ڈاکٹر اسد فاروق کہتے ہیں اگر کیلے کے تنے کو استعمال کرکے دھاگا بنایا جائے تو پیکجنگ میٹیریل میں لاسکتے ہیں۔ گندم کو ذخیرہ کرنے کیلئے کیلے کے تنے سے بنے دھاگے کی بوری کو بھی استعمال کیا جاسکے گا۔ زرعی یونیورسٹی سے ڈاکٹر اسد فاروق نے کیلے کے تنے کو استعمال کرتے ہوئے دھاگا بنا دیا۔ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کو صنعتی سطح پر اپنایا جائے تاکہ پٹ سن کی امپورٹ میں کمی لائی جاسکے۔

