English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایف بی آر بتائے ساڑھے تین سالوں میں کتنے نئے لوگ ٹیکس نیٹ میں آئے، لاہو ر ٹیکس بار

لاہور:لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر جمیل اختر بیگ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان دفاتر میں بیٹھنے والے ایف بی آر افسران کوتحسین پیش کرنے کی بجائے ان ٹیکس دہندگان کی ستائش کریں جو نا مساعد حالات کے باوجود ٹیکسز کی ادائیگی کر رہے ہیں۔حکومت محکمے سے سوال کیوں نہیں کرتی کہ ساڑھے تین سالوں میں کتنے لاکھ نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ہے اور کتنا ریونیو حاصل کیا گیا ہے۔

ان کاکہنا تھاکہ اگر ایف بی آر کی فوج ظفر موچ کو فیلڈ میں بھیجا  جائے تو لاکھوں کی تعدادمیں نئے ٹیکس دہندگان کو تلاش کیا جا سکتا ہے لیکن محکمے کا سار ازور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والوں کو خوفزدہ کرنے پر ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹیکس بار کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر لاہور ٹیکس بار کے نائب صدر حسیب اللہ خان، جنرل سیکرٹری سید عرفان حیدر شاہ، فنانس سیکرٹری رانا ذوالفقار، جوائنٹ سیکرٹری قدیر آصف کھوکھر اور دیگر بھی موجود تھے ۔

جمیل اختر بیگ کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے حال ہی میں ایک معاہدے کے تحت ٹیکس پریکسٹیشنرز کو پانچ ہزار کے عوض فروخت کرنے کا جو اقدام کیا ہے وہ درست نہیں،سرکل زون ختم کرکے ایف بی آر کے افسران کو دفاتر تک محدود کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ٹیکس نیٹ اور ٹیکس بیس میں اضافہ ہو رہا ہے اور نہ ہی افسران کو اپنے دائرہ کار کا علم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس دہندگان کو سہولتیں اور ریلیف دے تاکہ نئے لوگ اس جانب راغب ہوں نہ کہ دفاترمیں بیٹھ کر ہزاروں ،لاکھوںروپے ماہانہ تنخواہ لینے والے ایف بی آر کے افسران اور عملے کی بلا جواز تعریفیں کی جائیں۔حکومت محکمے سے سوال کیوں نہیں کرتی کہ ساڑھے تین سالوں میں کتنے لاکھ نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ہے اور کتنا ریونیو حاصل کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے