English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا ،یورپ سنکیانگ کے مسئلے پر سیاست اور اپنے مفادات کیلئے مقبوضہ کشمیر پر خاموش ہیں

القمر

کراچی (رپورٹ :قاضی جاوید) امریکا، یورپ سنکیانگ کے مسئلے پر سیاست اور اپنے مفادات کے لیے مقبوضہ کشمیر پر خاموش ہیں‘ چین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ اگر مقبوضہ کشمیر میں بھی تیل نکل رہا ہوتا تو اقوام متحدہ مشرقی تیمور کی طرح یہاں بھی ایکشن لیتا‘ بھارت میں مسلمانوں کی ثقافت و تعلیم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ اسلام آبادکی نئی دہلی سے دوستی نہیں‘ صرف تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے سابق اسپیکر شاہ غلام قادر، صحافی نعیمہ احمد اور صحافی اقبال ندیم نے جسارت کے اس سوال کے جواب میںکیا کہ ’’مغرب کا سنکیانگ اور کشمیر پر دہرا معیار کیوں ہے؟‘‘ شاہ غلام قادر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ بہت اہم ہے تاہم جس قدر بھارت کی مذمت ہونی چاہیے وہ نہیں ہوتی‘ مسئلہ کشمیر صرف مذمت سے حل نہیں ہو گا‘ مغرب کا سنکیانگ اور کشمیر پر دہرا معیار اس لیے ہے کہ ان کو چین کی ترقی پسند نہیں آ رہی ہے اور وہ اس ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ اگر مقبوضہ کشمیر میں تیل نکل رہا ہوتا تو شاید مغرب یہاں بھی توجہ دیتا‘ وہ مشرقی تیمور کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی ایکشن لیتا اور اس کی آزادی کے لیے مدد کرتا‘ بھارت یہ جھوٹا پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ جتنے لوگ شہید ہو رہے ہیں وہ پاکستان سے آتے ہیں حالانکہ اس وقت وہاں کی یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے طلبہ بھی مسلح جدوجہد کر رہے ہیں‘ پاکستان میں کشمیر کے معاملے پر قوم اور سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے تو ہے لیکن یہ متحرک نہیں ہیں‘ ہمارے سفارت کار اور این جی اوز بھی مسئلہ کشمیر پر بات نہیں کرتے‘ بھارتی لابی پروپیگنڈے کے محاذ پر بہت متحرک ہے‘ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی نہیں ہو سکتی کیونکہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے‘ دونوں ہمسائیوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔ نعیمہ احمد نے کہا کہ بھارت اب کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے آ گے جا رہا ہے اور پورے ملک میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا چکا ہے‘ پوری دنیا اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے‘ اس کے بر عکس سنکیانگ کے مسئلے پر امریکا سیاست کھیل رہا ہے ‘ 2024 ء میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اگر بی جے پی مکمل اکثریت حاصل کرتی ہے تو وہ ہندو راشٹر کے قیام کا اعلان کر سکتی ہے جس کے لیے حجاب سمیت دیگر مذہبی رسومات پر پابندی عاید کرکے راہ ہموار کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے‘ بھارت کی ایک ارب سے زاید آبادی کو بخوبی علم ہے کہ اتر پردیش اور دوسری 4 ریاستوں میں انتخابات کے دوران کوئی ایسا تنازع شروع کروایا جا ئے گا جو ہندو ووٹروں میں مذہبی جنونیت اُبھار کر ہندوتوا سوچ رکھنے والی پارٹی کی جیت کو یقینی بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے مذہبی آزادی کی اپنی رپورٹ2020ء اور 2021ء میں کہا ہے کہ صرف مقبوضہ کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں مسلمانوں پر ظالم کیے جا رہے ہیں لیکن امریکی حکومت اپنی تیار کردہ رپورٹ کو ہی اپنے مفادات کی خاطر نظرانداز کر رہی ہے۔ اقبال ندیم نے کہا کہ صرف کشمیریوں کو ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن مغرب بھارت میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اس کے خلاف کچھ نہیں بولتا ہے ‘ 3 طلاق، شہریت ترامیمی بل اور ’لو جہاد‘ کے بعد کسی کو شاید ہی یہ توقع تھی کہ مسلم عورتوں کے حجاب پہننے کا معاملہ بھارت میںاس قدر سنگین بنا دیا جائے گا‘ بھارت میں شمال کے بعد جنوب میں ہندو جنونیت کی لہر ایک بار پھر اقلیت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگی جس کی گونج اب او آئی سی سمیت دوسرے عالمی اداروں میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔حیرانی اس بات پر ہے کہ مذہبی جنونیت شمال کے مقابلے میں جنوبی ریاستوں میں اس قدر انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ مسلم لڑکیوں کو کلاس میں حجاب پہن کر جانے سے روکا جا رہا ہے‘ دنیا بھر کی طرح بھارت کے آئین میں ہر شہری کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے‘ حالیہ چند برسوں میں مسلمانوں کی خوراک، رہن سہن، ثقافت، شادی و بیاہ اور حصول تعلیم پر پے در پے حملے ہوئے ہیںاور انہیں ہندو سماج کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے‘ لیکن اسلامی ممالک کی جانب سے بھی”سنکیانگ اور کشمیر پر دہرا معیاراپنایا گیا ہے اس کو ختم ہونابھی ضروری ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے