وزیراعظم عمران خان نے ریلیف پیکج کے اقدامات اٹھائے ہیں، اس سے یہی لگتا ہے کہ انہوں نے آئندہ الیکشن کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ میرے خیال میں مولانا فضل الرحمان کے پاس جو سیاسی نسخہ ہے وہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ اس کی ایک وجہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کی جانب سے یہ دعوٰی بھی ہے کہ اگلے دو سے تین دن بہت اہم ہیں، تحریک عدم اعتماد آئندہ 48 گھنٹے میں لائیں گے، عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے۔ پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کی ریکوزیشن دونوں ہی پر غور ہورہا ہے، ہماری لیگل ٹیم رابطے میں ہے، سارے امور کو دیکھا جارہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز چودھری برادران سے جو ملاقات کی ہے، اس سے ایک بات تو واضح ہو چکی ہے کہ جو باتیں کی جا رہی تھیں اب وہ عملی شکل اختیار کرنے جا رہی ہیں۔ ممکن ہے اب وزیراعظم کو ایم کیو ایم سے ملاقات کرنے کراچی بھی جانا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا کہ اگر ہمارے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو ہم اپوزیشن میں جا کر بیٹھ جائیں گے، ثابت کرتا ہے کہ ان کو جو ایجنسیاں رپورٹ کر رہی ہیں کہ کچھ ہونے والا ہے، اس پر سے آج مولانا فضل الرحمان نے ڈھکن اٹھا دیا ہے۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ مونس الہیٰ اس میٹنگ میں موجود نہیں تھے، وہ اس وقت اسلام آباد میں تھے۔ پرویز الہیٰ کسی کے گھر تعزیت کیلئے گئے ہوئے تھے، انھیں اطلاع دی گئی کہ وزیراعظم ملاقات کیلئے آ رہے ہیں۔ اب فواد چودھری اس ملاقات کے بارے میں کوئی اور بیان دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ تینوں جماعتوں کے نمائندگان نے حکومتی اراکین کے ساتھ ہونے والی پیش رفت کمیٹی کے سامنےرکھی اور عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کیلئے ضروری اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر کمیٹی نے اپنی اپنی جماعت کی لیڈرشپ کو تحریک عدم اعتماد لانے کی سفارش کردی اور موقف اپنایا ہے کہ اپوزیشن کے پاس نمبر گیم پوری ہے لہذا جلد از جلد تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے۔ تاہم یاد رہے کہ اگر نئی حکومت وجود میں آئی تو اسے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی روشنی میں چار سو ارب کے نئے ٹیکسز لگانے پڑیں گے اور جونہی یہ نئے ٹیکسز لگائے گئے عمران خان، نوازشریف کی طرح ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ اور دیگر مزاحمتی نعرے لگاتے کھوئی ہوئی مقبولیت کو دوبارہ حاصل کرلیں گے۔ عمران خان کو مگر کسی نقصان کے بغیراقتدارسے نکالنا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ اگرعمران خان کو واضح نظر آ گیا کہ وہ جا رہے ہیں تو وہ اکیلے نہیں بلکہ ’’کسی‘‘ اور کو بھی ساتھ لے کرہی جائیں گے۔ لیکن اگر وزیراعظم کو یقین ہوا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنا دیں گے تواس بار وہ آبپارہ کی بجائے اسلام آباد سیکرٹریٹ میں واقع کے بلاک سے رجوع کریں گے۔
انٹیلی جنس بیورو کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر سلیمان کی تعیناتی تو راولپنڈی کی آشیرباد سے ہی ہوئی تھی مگر وہ اصل میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے منظور نظر تھے۔ آج بھی دونوں افسران بعض شامیں اکٹھے ہی گزارتے ہیں۔ ڈاکٹر سلیمان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عمران خان کا اعتماد بھی جیت چکے ہیں۔ مالی طور پر ان کی دیانت داری ایک سوالیہ نشان ہے کیونکہ ان کا نام نیب کے ایک مقدمے میں بھی گونجتا رہا ہے۔ مگر ایسی نازک صورتحال میں وہ وزیراعظم کے کام کے ہیں۔ شنید ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کی فہرستیں بنا رکھی ہیں اور ان پر کڑی نظر بھی رکھی جا رہی ہے۔ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے ان افراد کی شکایات دور کی جائیں گی اور انہیں رام کیا جائے گا۔ جو لوگ رام نہیں ہوں گے شاید وہ تحریک عدم اعتماد کے روزغائب کر دیے جائیں کیونکہ اس روز ایوان میں اکثریت ثابت کرنا حکومت کی نہیں بلکہ اپوزیشن کی ذمہ داری ہوگی۔ حکومت تو شاید ایوان میں بھی نہ آئے۔
اس وقت پی ٹی آئی کے اندر ناراض ارکان قومی اسمبلی کی تعداد کم وبیش پندرہ سے بیس ہے اور اپوزیشن کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرنے کے لیے صرف تیرہ ارکان کی حمایت درکار ہے گوکہ قومی اسمبلی کے 342 ارکان کے ایوان میں اپوزیشن کے ارکان کم وبیش 160 ہیں مگران میں بھی کچھ اوپرنیچے ہوسکتے ہیں اس لیے آصف علی زرداری اور شہباز شریف کم ازکم 25 حکومتی ارکان توڑنے کے لئے کوشاں ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا حکومت مختلف پیشکشوں کے ذریعے ان ناراض ارکان کو خرید نہیں سکتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض ارکان ایسے ہیں جو وزیراعظم سے اصولوں کی روشنی میں ناراض ہیں یہ وہ خاندانی لوگ ہیں جو عزت کی خاطر کسی بھی پیشکش کو ٹھکرا سکتے ہیں ان کی تعداد البتہ کم ہے تاہم مراعات لینے والوں کی تعداد ہمیشہ ہی زیادہ ہوتی ہے لہٰذا حکومت کے پاس اس میدان میں کھیل کر جیتنے کا امکان بھی زیادہ ہے۔ جن ارکان کی نظر اگلے انتخابات میں پنجاب سے ن لیگ اور سندھ سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ہے وہ البتہ مسئلہ پیدا کر سکتےہیں۔
اوپر درج منظرناموں میں سب سے آئیڈیل صورتحال یہ ہوگی کہ وزیراعظم اوراسٹیبلشمنٹ اگلے 9 مہینے ایک دوسرے کو برداشت کرلیں اور پھر ایک پروقارانداز میں گھرچلا جائے ایک نیا اورغیرمتنازع شخص سامنے آئے۔ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت ختم کر کے وقت پرگھر جائے اورمداخلت سے پاک انتخابات منعقد ہوں اور لوگ من پسند جماعت اور اس کے رہنما کو منتخب کرلیں مگر یہ سب سوچنا اب کسی دیوانے کا خواب ہی لگتا ہے۔
جمعرات، 3 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post عدم اعتماد کا ڈھول appeared first on شفقنا اردو نیوز.
