نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے ادارئہ برائے ماحولیاتی تبدیلی آئی پی سی سی نے اپنی تازہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بھارت میں ماحولیاتی آلودگی کے خطرات پر قابو نہ پایا گیا تو 2050 ء تک ملک کا نصف حصہ رہایش کے قابل نہیں رہے گا۔ آئی پی سی سی نے پہلی بار الگ الگ خطوں کا جائزہ لیا اور بڑے شہروں پر توجہ مبذول کی ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت عالمی سطح پر سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدی کے وسط تک دریائے گنگا میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی۔لیکن اسی کے ساتھ بعض مقامات پر سمندروں کی سطح میں اضافہ ہوگا جس کی وجہ سے ممبئی میں سیلاب کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اگر گیسوں کے اخراج میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو 2050 ء تک ملک کی ساڑھے 3کروڑ سے زائد آبادی کو سمندری طوفانوں کا سامنا رہے گا۔
