اسلام آباد میں واقع پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہونے والے انصار الاسلام کے کارکنوں کے خلاف پولیس کا آپریشن جاری ہے اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن قومی اسمبلی صلاح الدین ایوبی سمیت 18 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام(ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے اراکین پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہوئے جس کے بعد پولیس نے انہیں نکالنے کے لیے آپریشن شروع کردیا۔
آئی جی اسلام آباد پولیس محمد احسن یونس نے پارلیمنٹ لاجز میں رضاکاروں کی موجودگی نوٹس لیتے ہوئے ڈی چوک اور پارلیمنٹ لاجز میں موجود افسران کو معطل کردیا ہے اور آپریشن کا چارج سنبھال لیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام(ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے اراکین پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہوئے جس کے بعد پولیس نے انہیں نکالنے کے لیے آپریشن شروع کردیا۔
آئی جی اسلام آباد پولیس محمد احسن یونس نے پارلیمنٹ لاجز میں رضاکاروں کی موجودگی نوٹس لیتے ہوئے ڈی چوک اور پارلیمنٹ لاجز میں موجود افسران کو معطل کردیا ہے اور آپریشن کا چارج سنبھال لیا ہے۔
ٹوئٹر پر فوٹیج میں پولیس حکام کو پارلیمنٹ لاجز کے اندر تلاشی لینے اور یونیفارم میں ملبوس افراد کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے۔
Scenes from the Parliament lodges pic.twitter.com/KjZaopAxRS
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) March 10, 2022
دوسری جانب وزیر داخلہ شیخ رشید نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام(ف) پر انصارالاسلام کے 70 کارکنوں کو پارلیمنٹ لاجز میں لانے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ لوگ لاجز میں چھپے ہوئے ہیں، ہم اب بھی پرامن طریقے سے معاملہ حل کرنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے پولیس آفیشلز کو پیٹا اور انہیں بند کردیا اور انصار الاسلام کے اراکین کو پولیس کے حوالے نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم دیگر لوگوں کو پارلیمنٹ آنے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ادھر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ساتھ ساتھ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن بھی پارلیمنٹ لاجز پہنچ گئے اور کارکنوں کو بھی وہاں پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔
اعلان جنگ کرتا ہوں، حکومت چلنے نہیں دی جائے گی، مولانا فضل الرحمٰن
پولیس کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آج کے واقعے سے اس بات کی تصدیق ہو رہی ہے کہ ہمارے اراکین قومی اسمبلی کو اسلام آباد پولیس کے ذریعے اغوا کیا جائے گا جس کے لیے ہمارے رضاکار یہاں پہنچے ہیں جن کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں پی ڈی ایم کے سربراہ کی حیثیت سے یہاں پہنچا ہوں اور اپنے دوستوں کے ہمراہ گرفتاری پیش کروں گا اور تمام پارٹیوں کے کارکنوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اسلام آباد پہنچ سکیں تو ضرور پہنچیں ورنہ اپنے اپنے شہروں میں سڑکیں بند کردیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد پولیس کی دہشت گردی کو نہیں مانتے، آئی جی اسلام آباد پولیس اسلام آباد کا ذاتی ملازم ہے اور ذاتی ملازم کا کردار ادا کیا گیا ہے۔
ہم ایاز صادق صاحب کے پاس بیٹھے میٹنگ کررہے تھے تو بتایا گیا کہ پولیس داخل ہوگئی ہے یہ کہہ رہے ہیں جے یو آئی کی تنظیم کے کچھ لوگوں کے وارنٹ ہیں.ہم انہیں سمجھانے کی جوشش کررہے ہیں کہ لاجز میں آپ اس طرح داخل نہیں ہوسکتے لیکن یہ اپنی ضد پہ اڑے ہوئے ہیں.@KhSaad_Rafique pic.twitter.com/yFmSNR9y74
— PML(N) (@pmln_org) March 10, 2022
