حکمران جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اہم رہنما شعیب صدیقی اور سینیٹر اعجاز چودھری کے درمیان ٹویٹر پر تلخ کلامی ہوئی ہے۔
یہ معاملہ سینیٹر اعجاز چودھری کی جانب سے شروع ہوا، جنہوں نے میڈیا میں زیر گردش خبر کا حوالہ دیتے ہوئے علیم خان کی مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کیساتھ ملاقات پر تبصرہ کیا۔
*اے آر وائے پر نعیم اشرف بٹ صاحب کی خبر*
عبدالعلیم خان کی لندن میں نوازشریف سے خفیہ ملاقات ، ذرائع
ملاقات نوازشریف کےگھر پر مقامی وقت کےمطابق ساڑھے6 بجے ہوئی، ذرائع
علیم خان کو گھر کےعقبی دروازے سے داخل کیاگیا، ذرائع(خُفیہ ملاقات اور عقبی دروازے سے داخلہ
یہ وقت بھی آنا تھا)— Senator Ejaz Chaudhary (@EjazChaudhary) March 11, 2022
اعجاز چودھری کی یہ ٹویٹ دیکھتے ہی شعیب صدیقی سیخ پا ہو گئے اور انھیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا سہارا لیتے ہوئے کھری کھری سنا دیں۔
پی ٹی آئی سینیٹر اعجاز چودھری نے اپنی ٹویٹ میں اے آر وائی کے رپورٹر کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ذرائع کے مطابق عبدالعلیم خان کی لندن میں نواز شریف سے خفیہ ملاقات مقامی وقت کے مطابق ساڑھے 6 بجے ہوئی۔ علیم خان کو گھر کے عقبی دروازے سے داخل کیا گیا۔ خفیہ ملاقات اور عقبی دروازے سے داخلہ، یہ وقت بھی آنا تھا۔
جماعت اسلامی سے کرپشن کی بنیاد پر نکالے جانے والے اب بتائیں گے کہ کس کا کیسا وقت چل رہا ہے؟ ہر عہدے کی قیمت لگوا کر بیچنے والا اب دوسروں کو تعلیم دے گا؟
یہ وقت بھی آنا تھا!!! https://t.co/J9ocoq6EyO
— Shoaib Siddiqui (@ShoaibPTI_PP147) March 11, 2022
اس ٹویٹ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے شعیب صدیقی نے لکھا کہ جماعت اسلامی سے کرپشن کی بنیاد پر نکالے جانے والے اب بتائیں گے کہ کس کا کیسا وقت چل رہا ہے؟ ہر عہدے کی قیمت لگوا کر بیچنے والا اب دوسروں کو تعلیم دے گا؟ یہ وقت بھی آنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے ناراض رہنما علیم خان کی لندن میں نواز شریف سے ملاقات
ذرائع کے مطابق علیم خان اور نواز شریف کی ملاقات لندن میں ہوئی جس میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور نواز شریف کے بیٹے بھی موجود تھے۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان ہونے والی طویل ملاقات میں سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔ علیم خان نے پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی بیڈ گورننس کے حوالے سے نواز شریف کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، جبکہ نواز شریف نے سیاسی رہنما کی حیثیت سے علیم خان کے کردار کو سراہا۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات کا اہتمام مشترکہ دوستوں نے کیا تھا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ علیم خان نے لندن آنے سے قبل شہباز شریف سے بھی لاہور میں ملاقات کی تھی۔ علیم خان نے نواز شریف کو بتایا کہ ان کے ساتھ تین سال میں کیا ہوتا رہا اور ان کی اپنی جماعت پی ٹی آئی نے ان کو کس طرح نشانہ بنایا۔
