English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکمران میڈیا کو اپنا حریف اور اصل چہرہ دکھانے والا آئینہ سمجھتے ہیں

القمر

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) پاکستان کے حکمران اپنے اوپر تنقیدکے خوف سے ذرائع ابلاغ کی آزادی سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ حکمران گھبراتے ہیں کہ کہیں ان پر تنقید نہ ہو جائے ،وہ معاشرے میںبرہنہ نظر نہ آجائے، لوگ حکمرانوں کااصل رنگ و روپ دیکھ نہ لیں اس لیے حکمران طبقہ میڈیا کی آزادی سے گھبراتا ہے،میڈیا نہ صرف حکومتی پالیسیوں اور کمزوریوں پر تنقید کر تا ہے بلکہ بے آوازوں کی آواز بھی بن جاتا ہے۔ حکمران میڈیا کو اپنا حریف سمجھنے لگتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ بھی دولت مندوں اور طاقت وروں کے قلعوں میں گرفتار، ایسی بلا بن گئے ہیں، جس پر سوار ہوکردولت مند اور طاقتور پہلے اپنے حریفوں کو روندتے ہوئے اقتدار میں آتے ہیں پھر اْسی بلا کی طاقت سے خود کو مستحکم کرتے ہیں۔معاشرے میں اظہار رائے کی آزادی پرکسی بھی قسم کی قدغن لگی رہے تووہ معاشرہ فکری، علمی اور مادی طور پر پسماندہ رہ جاتا ہے۔ پاکستان میں میڈیا جتنا آزاد ہے اتنا پوری دنیا میں کہیں بھی نہیں ۔ان خیالات کا اظہارجامعہ کراچی کی طلبہ یونین کے سابق صدر ،بی بی سی اردو سروس سے منسلک رہنے والے، یونیورسٹی لیکچرار سینئر صحافی و تجزیہ کارشفیع نقی جامعی،ڈان نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام’’ ذرا ہٹ‘‘ کے میزبان ، بی بی سی اردو کے کالم نگار، پاکستانی اور عالمی اداروں میں کام کرنے والے نامور اور سینئر صحافی وسعت اللہ خان، پاکستان سینٹر فار ڈیولپمنٹ کمیونی کیشن اسلام آباد کے ڈائریکٹر احمد آفتاب ،صحافت کے استاد، کئی کتابوں کے مصنّف ،وفاقی اردو یونیورسٹی شعبہ ابلاغِ عامّہ کے سابق صدر و موجودہ یونیورسٹی کے سینیٹ کے رْکن ،کالم نگار،تجزیہ کارو سینئر صحافی پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان،کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکرٹری ، معروف سینئر صحافی موسیٰ کلیم اور پاکستان کے مقبول ترین موٹیویشنل اسپیکر، ٹرینر، استاد او ر کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر محمد عارف صدیقی نے جسارت کی جانب سے پوچھے گئے سوال’’ پاکستان کا ہر حکمران ذرائع ابلاغ کی آزادی سے کیوں خوف زدہ ہوتا ہے؟‘‘ کے جواب میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ شفیع نقی جامعی نے کہا کہ آزادانہ اظہاررائے سے خوف زدہ کسی بھی حکمران نے میڈیا کی آزادی کو پنپنے نہیں دیا ہے،پاکستان کا ہر حکمران ذرائع ابلاغ کی آزادی سے اس لیے خوف زدہ ہوتا ہے کہ کیوں کہ حکمران میڈیا سے ڈرتے اور گھبراتے ہیں کہ کہیں ان پر تنقید نہ ہو جائے، کہیں وہ معاشرے میں بر ہنہ نظر نہ آجائے، لوگ حکمرانوں کااصل رنگ و روپ دیکھ نہ لیں، اس لیے حکمران طبقہ میڈیا کی آزادی سے گھبراتا ہے۔ حکمرانوں کا ذرائع ابلاغ سے گھبرانا اور خوف زدہ ہونابالکل جائز ہے کیوں کہ آدمی ڈرتا اور گھبراتا اسی سے ہے جس سے اسے ڈر ہوکے وہ کہیں اس کے پول نہ کھول دے۔وسعت اللہ خان نے کہا کہ پاکستان کا ہر حکمران ذرائع ابلاغ کی آزادی سے خوف زدہ ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے کیوں کہ میڈیا نہ صرف حکومتی پالیسیوں اور کمزوریوں پر تنقید کر تا ہے بلکہ بے آوازوں کی آواز بھی بن جاتا ہے۔ اس لیے حکمران میڈیا کو اپنا حریف سمجھنے لگتے ہیں۔ سیاستدان جو وعدے وعید کر کے اقتدار میں آتے ہیں میڈیا ان کو وہ وعدے یاد دلاتا ہے اور حکومت کی غلطیاں اجا گر کرتا رہتا ہے ۔ میڈیا عوام کی رائے کی ترجمانی کرتا اور حکومت کو اس کا چہرہ دکھاتاہے۔ایک آزاد میڈیا ہی حکومت اور حکمرانوں کے احتساب میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔احمد آفتاب نے کہا کہ صدیوں سے حکمران اقتدار کی خاطر، اپنے قلعوں میں بلائیں پالتے آرہے ہیں۔ پہلے مہیب وحشی جانور اور آسیب پالے جاتے تھے۔ اب وحشت کے دیگر ذرائع بھی ہیں۔ ذرائع ابلاغ بھی دولت مندوں اور طاقت وروں کے قلعوں میں گرفتار، ایسی بلا ئیںبن گئی ہیں، جس پر سوار ہوکر،طاقتور اور دولت مند پہلے اپنے حریفوں کو روندتے ہوئے اقتدار میں آتے ہیں۔ پھر اْسی بلا کے طاقت سے خود کو مستحکم کرتے ہیں۔ اپنے مخالفین کو کچلنے کے لیے، سب حکمرانوں کو بلا ئوں کی طاقت سے خاص محبت ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ انہیں اس امکان سے ڈر بھی لگتا ہے کہ اگر یہ بلا کبھی بپھر گئی یا آزاد ہوگئی تو خود ان کو ہی روند ڈالے گی۔ لہٰذا بلا کو قابو کرنے کے لیے، وہ پہلے اسے زنجیریں باندھتے ہیں۔پھر بھوکا رکھتے ہیں اور طویل عرصہ بے بسی کا احساس دلاتے ہیں تاکہ اس کی قوت کو حسب منشا استعمال کرسکیں۔پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان نے کہا کہ2007 میں وکلا تحریک کے بعد پاکستان کی اسٹیپلشمنٹ نے یہ محسوس کیا کہ اب میڈیا کی آزادی کو محدود کرنا چاہیے ،مگر اس پر عملدرآمد 2013ء کے بعد ہی وہ کر پائے اور انہوں نے میڈیا کو کنٹرول کرلیا،یہ عجیب المیہ ہے کہ فوجی حکمران تو آتے ہی جمہوریت کو پامال کرنے کے لیے تو ان کے پاس تو انسانی حقوق، آزادی صحافت اور میڈیا کی آزادی کا تصور نہیں ہے مگر جو جمہوری حکمران بھی آتے ہیں وہ میڈیا کی آزادی کو محدود کرنے لگتے ہیں۔موسیٰ کلیم نے کہا کہ کس ملک میں جمہوریت کتنی رائج ہے اس کا اندازہ میڈیا کی آزادی سے لگایا جاسکتا ہے۔ موجودہ وزیر اعظم جب اپوزیشن میں تھے اس وقت میڈیا کی آزادی کے علمبردار تھے۔ ڈی چوک کے اپنے دھرنے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ جب اقتدار میں آئینگے تو میڈیا کی آزادی کو حقیقی معنوں میں یقینی بنائینگے۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے یو ٹرن لیتے ہوئے میڈیا پر سخت تنقید شروع کردی ہے۔ اب تو صورتحال اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت قوانین زیر غور ہیں۔ ان قوانین کے نفاذ سے پہلے ہی ملک بھر میں میڈیا کا گھیرا بہت تنگ کیا گیا ہے۔ حقیقت ہے کہ نئے پاکستان میں میڈیا آزاد ہونے کے بجائے کئی طرح کی قدغنوں کا شکار ہو گیا ہے۔ڈاکٹر محمد عارف صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا جتنا آزاد ہے اتنا پوری دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے۔ امریکا ،چین اور اس طرح کے دیگر یورپین ممالک میں میڈیا کو اپنے ملک کے ریاستی اور سلامتی کے اداروں پر کھلے عام غداروں کا ساتھ دیتے ہوئے، دشمن ملک کی زبان بولنے اور کیچڑ اچھالنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے یہ آزادی میڈیا کو صرف پاکستان میں حاصل ہے۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ تمام چینل رپورٹنگ نہیں کرتے ہیں یہ اینگلنگ کرتے ہیں حالانکہ جرنلزم اور صحافتی اقدار کی روح سے ان لوگوں کو رپورٹنگ کرنی چاہیے لیکن یہ صحافتی اصولوں پر پورا نہیں اترتے ۔ درحقیقت ہمارے ہاں جو الیکٹرونک میڈیا ہے وہ صحافت کے منہ پر ایک دھبہ ہے جو ملکی سلامتی کے خلاف ایجنڈے پر کام کرتا ہے ،اگر آپ پرنٹ میڈیا کی بات کریں تو پرنٹ میڈیا میں روزنامہ جسارت اور اس طرح کے 2،3 نظریاتی اخبارات کو نکال دیں جو مثبت اور سچ مچ کی صحافت کررہے ہیں۔ باقی اخبارات کو دیکھیں تو وہ کسی نہ کسی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں ، انگریزی اخبار دیکھ لیں تو ان کا وژن بالکل مغربی ملے گا وہ ریاست پاکستان اور اسلام کے خلاف ہوگا تو یہ بات کہنا ہے کہ پاکستان کا ہر حکمران ذرائع ابلاغ کی آزادی سے کیوں خوف زدہ ہے اورمیڈیا آزاد نہیں تو یہ کہنا بالکل غلط ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے