English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت یا اپوزیشن کسی کے ساتھ نہیں،عوامی حقوق کی جہدوجہد جاری رہے گی

القمر
لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق منصورہ میں مرکزی مجلس عاملہ سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ہمیں راستہ دکھایا ہے کہ ہوائوں کے رخ پر تنکوں کی طرح بہنے کے بجائے حق پر ڈٹے رہیں۔ جب مولانا مودودیؒ زندہ تھے تو ان سے سوال کیا گیا کہ آپ روس کے ساتھ ہیں یا امریکا کے ساتھ، تو ان کا جواب تھا ہم دونوں کے خلاف ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ فی الحال یہ مشکل فیصلہ ہے، لیکن ہم حق پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ہمارا ہر قدم اور ہر جلسہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہے۔ ہمارا پیسہ، ہماری زندگیاں دین کے لیے جدوجہد پر صرف ہوں گی۔ ہمیں موت بھی آئے تو اسی مقصد کی خاطر۔ اسلام کی بنیاد توحید پر ہے اور توحید دورنگی نہیں سکھاتی۔ موجودہ سیاسی دنگل اور شطرنج کے کھیل میں کوئی بھی اسلامی نظام کی بات نہیں کر رہا۔ سیاست دان اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں، وہ زبان استعمال ہو رہی ہے جو کسی بھی مہذب معاشرے میں زیب نہیں دیتی۔ سوشل میڈیا اور جلسے جلوسوں میں ایک دوسرے کے خلاف گندی زبان اور گالیوں کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم ایک دفعہ پھر کنٹینر پر سوار ہو گئے ہیں۔ تصادم جاری رہا تو خدانخواستہ کمزور جمہوریت کے پٹڑی سے اترنے کا خدشہ ہے۔ بڑی اپوزیشن اور حکمران جماعتوں کے رہنما جماعت اسلامی سے رابطے کر رہے ہیں۔ جب ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کی لڑائی مہنگائی، بے روزگاری کم کرنے، سودی معیشت ختم کرنے اور ملک کو استعمار سے نجات دلانے کے لیے ہے، توجواب نفی میں ملتا ہے۔ قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ ظالم کا ساتھ نہ دے۔ حضورؐ نے فرمایا جو ظلم کا ساتھ دے گا وہ ان کی امت میں سے نہیں۔ ہر مسلمان حضورؐ کی تحریک کا وارث ہے۔پاکستانی عوام اپنے آپ کو بے یارومددگار نہ سمجھیں۔ قوم جان لے وہ غیر اہم نہیں ہے۔ فیصلہ عوام نے کرنا ہے اور عوام ہاتھوں میں قرآن اٹھاکر ملک کو خوشحالی، امن اور اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ کی جامع مسجد میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں سراج الحق نے جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کی صدارت کی۔ مسلسل کئی گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں موجودہ ملکی صورت حال، جماعت اسلامی کی عوامی حقوق کے لیے 101دھرنوں کی تحریک، تنظیمی امور اور بلدیاتی اور جنرل الیکشن کی تیاریوں کی صورت حال پر گفتگو ہوئی۔ امیر جماعت نے پارلیمنٹ لاجز میں اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ پر پولیس تشدد کی مذمت کی اور اس واقعے کو پارلیمانی روایات کی شدید خلاف ورزی اور حکومتی بوکھلاہٹ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی و ذاتی مقاصد کے لیے اداروں کا استعمال قابل افسوس ہے اور ایسے اقدامات سے ملک انارکی کی جانب جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں قانون اور انصاف ناپید ہو کر رہ گیا ہے، ایف آئی آر کے اندراج اور اخراج کے لیے بھی مارچ کرنا پڑتا ہے۔امیر جماعت کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہو گئی ہے۔ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اور بدامنی میں گزشتہ پونے4 سال میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے ماضی کی حکومتوں کی طرح اداروں کو تباہ کیا اور معیشت برباد کی۔ حکومت نے بدترین طرزحکمرانی کی مثالیں قائم کیں۔ وزیراعظم نے مدینے کی ریاست کا نام لے کر قوم کو دھوکا اور فریب دیا۔ انھوں نے نوجوانوں کو بھی دھوکا دیا اور وہ مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں۔ ملک میں سودی معیشت، شراب، عریانی و فحاشی جاری ہے اور دوسری طرف وزیراعظم مدینے کی اسلامی ریاست کی بات بھی کر رہے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ حکمران اشرافیہ استعمار کے ایجنڈے پر یکجا ہے۔ 74برس میں وہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے جس کی خاطر پاکستان بنا تھا۔ جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ حالات کتنے بھی مشکل ہوں، پاپولر فیصلوں کے بجائے حق کے راستے پر چلیں گے۔ ہم نے وہ راہ اپنائی ہے جو امام ابوحنیفہؒ، ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہؒ، سید مودودیؒ، سید مطیع الرحمنؒ، لالہ اشرف صحرائیؒ اور سید گیلانیؒ نے اپنائی تھی۔ ہم اللہ اور اس کے نظام پر ایمان لائے ہیں۔ اللہ کا دیا گیا نظام ہمارے لیے کافی ہے اور ہم پاکستان کو یہی نظام دینے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ اس راستے میں مشکلات کا پہاڑ ہے، مگر ہم پورے عزم اور جرأت کے ساتھ سفر جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ پاکستان کو اسلامی نظام ملے گا اورپاکستان دنیا میں عظیم اسلامی فلاحی ریاست بن کر ابھرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے