English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قابض یہود نے فلسطینیوں کو شہریت سے محروم کردیا

القمر

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی پارلیمان نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت مغربی کنارے یا غزہ سے تعلق رکھنے والے شادی شدہ فلسطینیوں کو شہریت یا رہایش حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ قانون 15 کے مقابلے میں 45 ووٹوں سے منظور کیا گیا اور سردست اسے عبوری قانون کے طور پر لاگو کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ قانون سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قانون نسل پرستانہ بنیادوں پر منظور کیا گیا ہے تاکہ مغربی کنارے یا غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کیا جائے اور یہودیوں کی تعداد میں اضافہ جاری رہ سکے۔دوسری جانب فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی گھر گھر تلاشی کی مہم کے دوران حماس کے رہنماؤں، ارکان اسمبلی اور دیگر سرکردہ شہریوں سمیت 42 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔فلسطینی امور اسیران کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قابض فوج نے غرب اردن اور بیت المقدس میں گھر گھر تلاشی کے دوران 42 افراد کو حراست میں لے لیا۔ تلاشی کی کارروائیوں میں گھروں میں گھس کر توڑپھوڑاور لوٹ مار کی گئی۔رام اللہ میں تلاشی کے دوران 10 فلسطینیوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ مشرقی رام اللہ میں سلواد کے مقام سے 6 فلسطینی، سابق اسیر اور شہید انس کے والد بسام حماد، فرید النجار، قاسم ریاض، لوئی فارس، عبدالرحمن حبش اور محمد حبش کو گرفتار کیا گیا۔اس کے علاوہ الخلیل شہر میں بھی گرفتاریاں ہوئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے